"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 49 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 49

۴۹ (1) غلط تاریخ پیدائش۔۔۔غلط دلیل چشتی صاحب نے " مجدد قرن الرابع عشر" کے الفاظ کے حروف ابجد کے لحاظ سے اعداد نکال کر جو مجموعی طور پر ۴۷۵ بنتے ہیں دلیل گھڑی ہے کہ چونکہ یہ سال ہجری پیر صاحب کی ولادت کا سال ہے اس لئے یہ ثابت ہوا کہ پیر صاحب چودھویں صدی کے مجدد تھے۔چشتی صاحب نے پیر صاحب کا سال ولادت ۱۲۷۵ ہجری قرار دیا ہے جو کہ سن عیسوی کے اعتبار سے ۱۸۵۹ بنتا ہے جبکہ چشتی صاحب کے بزرگوں میں ہے جناب مولوی محمد فاضل صابر از ٹھیکریاں نے جو کہ پیر صاحب کے خاص ارادتمندوں میں سے تھے ، پیر صاحب کا سال ولادت ۱۸۳۷ عیسوی قرار دیا ہے گویا پورے ۲۳ سال کا فرق ہے۔چنانچہ پیر صاحب کے سوانح حیات جو مولانا فیض احمد فیض جامعہ غوفیہ گولڑہ شریف نے مسند آرائے آستانہ عالیہ غوشیہ گولڑہ شریف جناب سید غلام محی الدین شاہ کی اجازت سے " ہر منیر" کے نام سے شائع کی ہے اس میں مولوی محمد فاضل صابر کا تحریر کردہ مرضیہ درج کیا ہے جس کا آخری شعر جو تواریخ ولادت و وفات کے بارہ میں فیصلہ کن ہے یہ ہے صابر از سن وصال شان بگو آمد ندا بے ضیا ماندہ جہاں چوں مہر عالم شد نہاں = ۱۸۳۷ + ۱۹۳۷ء ( جس طرح کتاب میں شعر درج کیا گیا ہے ہم نے بعینہ اس طرح نقل کیا ہے ) دیکھئے اس میں مولوی محمد فاضل صابر نے پیر صاحب کا سال ولادت ۱۸۳۷ عیسوی قرار دے کر اس میں " آمد ندا" کے حروف ابجد کے مطابق اعداد شامل کر کے جو ۱۰۰ بنتے ہیں۔پیر صاحب کی وفات کا سال معین کیا ہے یعنی ۱۸۳۷ + ۱۰۰ = ۱۹۳۷ء پس کتاب مہر منیر کی اندرونی شہادت یہ ہے کہ دراصل پیر صاحب کا سن ولادت ۱۸۳۷ عیسوی یعنی ۱۲۵۲ مجری تھا۔اب اپنی من گھڑت اور قطعی بے بنیاد دلیل کی وجہ سے کھینچ تان کر پیر صاحب کی عمر کو پورے ۲۳ سال کم کر دینا انہیں کے مریدوں کا ہی کام ہے۔پس پیر صاحب کے مریدوں نے پیر صاحب کو مجدد ثابت کرنے کے لئے حروف ابجد کے اعداد کا