"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 44 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 44

۴۴ (۵) سب پاک ہیں پیمبر چشتی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لاف کاف طامات الم علم ، غرض ہے قسم کی لاف و گزاف اپنے اس رسالہ " فاتح قادیان " میں کی ہے۔چنانچہ صفحہ ۴ پر بھی۔معمول ہرزہ سرائی کے بعد صفحہ ۱۵ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ " انبیاء علیہ السلام سے رشتہ عقیدت توڑ کر اپنا گرویدہ کرنا ان کا نصب العین تھا۔چنانچہ عیسی علیہ السلام کا آغوش مادر میں ہمکلام ہونا اس پر گراں گزرا تو اپنے بیٹے کا ان سے تقابل کرتے ہوئے لکھتا ہے: حضرت مسیح نے تو صرف مہد ہی میں باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔تریاق القلوب صفحه ۴۱ ۹۲۱) یہاں چشتی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کے ساتھ بھی مسجد کے اموال سا سلوک کیا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رقم فرمودہ ساری عبارت پڑھی جائے تو حقیقت حال بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے اور اعتراض کی بھی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔چنانچہ ملاحظہ فرمائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔خدا تعالی کی طرف سے اسی لڑکے کی مجھ میں روح بولی اور الہام کے طور پر یہ کلام اس کا میں نے سنا۔انی اسقط من الله و اصیبہ ملنے اب میرا وقت آگیا۔اور میں اب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھوں سے زمین پر گروں گا۔اور پھر اسی کی طرف جاؤں گا۔) تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۱۷) اس کے بعد آپ نے فرمایا " یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔" اس پوری عبارت سے ظاہر ہے کہ اس بچے کا جو ماں کے پیٹ میں ہے ہرگز اس طرح بولنا مراد نہیں جس طرح ایک چلتا پھرتا بچہ اپنی ظاہری زبان سے بولتا ہے بلکہ یہ ایک الہام تھا جو خدا تعالٰی نے اس بچہ کی روح کی طرف سے حکایتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل فرمایا۔آپ کا یہ فقرہ