"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 21
۲۱ موقعہ پر یہی سب سے بڑا شکوہ تھا کہ ایک دینی معاملہ اخلاق و تحمل کے جس ماحول کا ہے وہ سرے سے مفقود ہے۔اگر عملا یہ بات نہیں تھی تو مطلوبہ ذمہ داری حاصل کرنے کو " ناممکن العمل " کیوں قرار دیا گیا۔خصوصاً جبکہ یہ اصحاب پیر صاحب کے مرید یا ہم عقیدہ ہی تھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی اس قسم کا ایک واقعہ ملتا ہے۔چنانچہ ”سنن ابي داؤد " (کتاب الخراج والغنى و الامارۃ باب خبر النفیر ) میں لکھا ہے کہ بنو نضیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ تمیں آدمی لے کر آئیں ہم بھی اپنے اخبار لے کر آئیں گے۔اگر ہمارے احبار آپ کی تصدیق کریں تو ہمیں بھی کچھ عذر نہ ہو گا لیکن چونکہ وہ بغاوت کی تیاری کر چکے تھے حضور علیہ السلام نے کہلا بھیجا کہ جب تک تم ایک معاہدہ نہ لکھ دو میں تم پر اعتماد نہیں کر سکتا۔پیر صاحب کیلئے مباحثہ کی ایک آسان شرط اشتہار کے آخر میں آپ نے پیر صاحب کے مطالبہ مباحثہ کو پورا کرنے کے لئے یہ آسان تجویز لکھی کہ :- "اگر پیر مہر علی شاہ صاحب بالمقابل عربی تفسیر لکھنے سے عاجز ہوں جیسا کہ در حقیقت یہی سچا امر ہے تو ایک اور سہل طریق ہے جو وہ طرز مباحثہ کی نہیں جس کے ترک کے لئے میرا وعدہ ہے۔اور وہ طریق یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری مذکورہ بالا کے بعد میں لاہور میں آؤں اور مجھے اجازت دی جائے کہ مجمع عام میں جس میں ہر سہ رئیس موصوفین بھی ہوں تین گھنٹے تک اپنے دعوئی اور اس کے دلائل کو پبلک کے سامنے بیان کروں۔پیر مہر علی شاہ صاحب کی طرف کوئی خطاب نہ ہو گا۔اور جب میں تقریر ختم کر چکوں تو پیر مہر علی شاہ صاحب اٹھیں اور وہ بھی تین گھنٹے تک پبلک کو مخاطب کر کے ثبوت دیں کہ حقیقت میں قرآن اور حدیث سے یہی ثابت ہے کہ آسمان سے مسیح آئے گا پھر بعد اس کے لوگ ان دونو تقریروں کا خود موازنہ اور مقابلہ کر لیں گے اور ان دونو باتوں میں سے اگر کوئی بات پنیر صاحب منظور فرما دیں تو بشرط تحریری ذمہ داری رؤساء مذکورین میں لاہور میں آ جاؤں گا۔" تبلیغ رسالت جلد ا صفحه ۱۳۷ تا ۱۴۱)