"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 20 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 20

۲- دوسرا امر جو میرے لاہور پہنچنے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے کہ شہر لاہور کے تین رئیس یعنی نواب شیخ غلام محبوب سبحان صاحب اور نواب فتح علی شاہ صاحب اور سید برکت علی خاں صاحب سابق اکسٹرا اسٹنٹ ایک تحریر بالاتفاق شائع کر دیں کہ ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے مریدوں اور ہم عقیدوں کی طرف سے گالی یا کوئی وحشیانہ حرکت ظہور میں نہیں آئے گی۔اور یاد رہے کہ لاہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے پندرہ یا بیس آدمی سے زیادہ نہیں ہیں اور میں ان کی نسبت یہ انتظام کر سکتا ہوں کہ مبلغ دو ہزار روپیہ ان تینوں رئیسوں کے پاس جمع کرا دوں گا۔اگر میرے ان لوگوں میں سے کسی نے گالی دی یا زدو کوب کیا تو وہ تمام روپیہ میرا ضبط کر دیا جائے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ اس طرح پر خاموش رہیں گے کہ جیسے کسی میں جان نہیں مگر پیر مہر علی شاہ صاحب جن کو لاہور کے بعض رئیسوں سے بہت تعلقات ہیں اور شاید پیری مریدی بھی ہے ان کو روپیہ جمع کرانے کی کچھ ضرورت نہیں۔کافی ہو گا کہ حضرات معزز رئیسان موصوفین بالا ان تمام سرحدی پر جوش لوگوں کے قول اور فعل کے ذمہ دار ہو جائیں جو پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور نیز ان کے دوسرے لاہوری مریدوں خوش عقیدوں اور مولویوں کی گفتار کردار کی ذمہ داری اپنے سر لے لیں جو کھلے کھلے طور پر میری نسبت کہہ رہے ہیں اور لاہور میں فتوے دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ان چند سطروں کے بعد جو ہر سہ ریکسان مذکورین بالا اپنی ذمہ داری سے اپنے دستخطوں کے ساتھ شائع کر دیں گے اور پیر صاحب کے مذکورہ بالا اشتہار کے بعد پھر میں اگر بلا توقف لاہور میں نہ پہنچ جاؤں تو کاذب ٹھہروں گا۔" اس اشتہار میں مذکور دوسری شرط کے متعلق منشی الہی بخش صاحب اکو ٹنٹ نے لکھا:۔" سبحان اللہ ! یہ خوب انصاف ہے کہ خود بدولت مرزا صاحب کسی کی ایک شرط بھی ہرگز قبول نہ کریں اور آپ شرائط پر شرائط بڑھاتے جائیں اور وہ بھی ایسے ناممکن العمل کہ کبھی نہ ہو سکیں۔" (عصائے موسیٰ صفحہ ۴۲۰) ان الفاظ سے شرط کی اہمیت نمایاں ہو جاتی ہے۔دراصل حضرت اقدس کو اس