"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 11 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 11

ان کی اکثر دعائیں شرف قبولیت پاتی ہیں۔(ادعونی استجب لکم) لہذا حق و باطل کے امتیاز کے لئے پیر صاحب موصوف تغییر نویسی میں علمی مقابلہ کرلیں جن کا طریق حضور نے یہ تجویز فرمایا :- " لاہور میں جو پنجاب کا صدر مقام ہے۔صادق اور کاذب کے پرکھنے کے لئے ایک جلسہ قرار دیا جائے اور اس طرح پر مجھ سے مباحثہ کریں کہ قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورت نکالیں اور اس میں سے چالیس آیت یا ساری سورت (اگر چالیس آیت سے زیادہ نہ ہو ) لے کر فریقین یہ دعا کریں کہ یا الہی ہم دونوں میں سے جو شخص تیرے نزدیک راستی پر ہے اس کو تو اس جلسہ میں اس سورۃ کے حقائق اور معارف فصیح اور بلغ عربی میں عین اسی جلسہ میں لکھنے کے لئے اپنی طرف سے ایک روحانی قوت عطا فرما اور روح القدس سے اس کی مدد کر اور جو شخص ہم دونو فریق میں سے تیری مرضی کے مخالف اور تیرے نزدیک صادق نہیں ہے اس سے یہ توفیق چھین لے اور اس کی زبان کو فصیح عربی اور معارف قرآنی کے بیان سے روک لے تالوگ معلوم کر لیں کہ تو کس کے ساتھ ہے اور کون تیرے فضل اور تیری روح القدس کی تائید سے محروم ہے۔پھر اس دعا کے بعد فریقین عربی زبان میں اس تفسیر کو لکھنا شروع کریں اور یہ ضروری شرط ہو گی کہ کسی فریق کے پاس کوئی کتاب موجود نہ ہو اور نہ کوئی مددگار اور ضروری ہو گا کہ ہر ایک فریق چپکے چپکے بغیر آواز سنانے کے اپنے ہاتھ سے لکھے تا اس کی فصیح عبارت اور معارف۔کے سننے سے دوسرا فریق کسی قسم کا اقتباس یا سرقہ نہ کر سکے اور اس تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے مہلت دی جائے گی اور زانو بہ زانو لکھنا ہو گا نہ کسی پردہ میں ہر ایک فریق کو اختیار ہو گا کہ اپنی تسلی کے لئے فریق ثانی کی تلاشی کر لے اس احتیاط سے کہ وہ پوشیدہ طور پر کسی کتاب سے مدد نہ لیتا ہو اور لکھنے کے لئے فریقین کو سات گھنٹہ کی مہلت ملے گی مگر ایک ہی جلسہ میں اور ایک ہی دن میں اس تفسیر کو گواہوں کے رو برو ختم کرنا ہو گا اور جب فریقین لکھ چکیں تو وہ دونو تفسیریں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری و انتخاب پیر مہر علی شاہ صاحب کے ذمہ ہو گا سنائی جائیں گی اور ان ہرسہ مولوی صاحبوں کا یہ کام ہو گا کہ وہ حلفاً یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونو تفسیروں اور