"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 55 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 55

الطعام ۵۵ (سوره مائده رکوع ۱۰ - پاره ۶ - رکوع ۱۴) ترجمہ :۔مسیح ابن مریم سوائے ایک رسول کے اور کچھ نہ تھے اور ان سے قبل تمام رسول گزر چکے ان کی والدہ راستباز تھیں وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔اب دیکھئے اس آیت سے کتنے واضح طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔پہلے فرمایا کہ مسیح ابن مریم ایک رسول کے۔ا کچھ نہ تھے پھر ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ ان سے قبل تمام رسول گزر چکے ہیں۔گویا حضرت عیسیٰ کی وفات پر ایک نا قابل رد دلیل پیش کر دی یہ ویسی ہی طرز کلام ہے جیسے کوئی کہے کہ زید ایک انسان کے سوا کچھ نہیں اور سب انسان مٹی کے بنے ہوتے ہیں۔پس جس طرح اس فقرے سے ثابت ہوتا ہے کہ لازماً زید بھی مٹی کا بنا ہوا ہے اسی طرح مذکورہ بالا آیت سے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہو جاتی ہے۔بصورت دیگر آپ کو رسولوں کے مقدس گروہ سے کوئی الگ چیز ماننا پڑے گا جو ظاہر ا غلط ہے۔- قرآن کریم اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرماتا ہے۔کہ اس کی (یعنی مسیح کی والدہ راست باز تھیں اور وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح " اب تک زندہ موجود ہوتے تو کیا ان کے متعلق کھانا کھایا کرتے تھے کے الفاظ آنے چاہئیں تھے ؟ یقیناً نہیں بلکہ ایسی صورت میں تو چاہئے تھا کہ حضرت مسیح کا ذکر حضرت مریم سے الگ کر کے یہ فرمایا جاتا کہ (حضرت) مریم کھانا کھایا کرتی تھیں۔مسیح اب تک کھاتے ہیں اور وفات کے دن تک کھاتے رہیں گے۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔پس حضرت مسیح کو بھی حضرت مریم کے ساتھ ملا کر ایک گزرے ہوئے زمانے کے انسان کے طور پر آپ کا ذکر فرمانے سے اس مسئلہ کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے۔یعنی یہ کہ حضرت مسیح ایک رسول سے بڑھ کر رتبہ نہیں رکھتے تھے اور جس طرح دوسرے رسول فوت ہوئے آپ بھی فوت ہوئے اور جس طرح باقی کھانا کھانے کے حاجتمند تھے آپ بھی کھانا کھانے کے حاجتمند تھے اور کھانے کے بغیر ہی زندہ رہنے کی کوئی خدائی صفت ان میں موجود نہ تھی۔اس آیت کے ہوتے ہوئے بھی کوئی اگر حضرت مسیح کو زندہ مانے تو یہ محض اس کی زبردستی ہوگی۔