"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 32 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 32

۳۲ ہاتھ کا لکھا ہوا ہے جو اس نے مولوی کرم الدین صاحب کو لکھا ہے۔غرض گولڑی نے محمد حسن کے والد کو بہت تاکید کی ہے کہ ان کو کتابیں مت دکھاؤ یعنی اس راقم خاکسار کو۔گولڑی کارڈ میں لکھتا ہے کہ محمد حسن کی اجازت سے لکھا گیا مگر یہ اعتراف را ستبازی کے تقاضا سے نہیں بلکہ اس لئے کہ یہ بھید ہم پر کھل گی ناچار شرمندہ ہو کر اقراری ہوا۔دوسرے خط میں گولڑی کا کارڈ ہے جو اس نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر روانہ کیا ہے ملاحظہ ہو۔خاکسار شہاب الد بمقام ھیں" مولوی کرم الدین جس کا ذکر میاں شہاب الدین صاحب نے اپنے خط میں کیا ہے اس نے جو خطوط حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حکیم فضل دین صاحب مالک و مہتمم ضیاء الاسلام پریس قادیان کو لکھے ان کی نقول ذیل میں درج ہیں۔وہ لکھتے ہیں :- و مگر منا حضرت اقدس مرزا صاحب جی مدظلہ العالی السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته میں ایک عرصہ سے آپ کی کتابیں دیکھا کرتا ہوں مجھے آپ کے کلام سے تعشق ہے میں نے کئی دفعہ عالم رویاء میں بھی آپ کی نسبت اچھے واقعات دیکھے ہیں اکثر آپ کے مخالفین سے بھی جھگڑا کرتا ہوں۔اگر چہ مجھے ابھی تک جناب سے سلسلہ پیری مریدی نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں میرے خیال میں بہت احتیاط درکار ہے جب تک بالمشافہ اطمینان نہ کیا جاوے بیعت کرنا مناسب نہیں ہوتا لیکن تاہم مجھے جناب سے غائبانہ محبت ہے میں نے چار پانچ یوم کا عرصہ ہوا ہے کہ جناب کو خواب میں دیکھا ہے آپ نے مجھے مبارکباد فرمائی ہے اور کچھ شیرینی بھی عنایت کی ہے اور اس وقت میرے دل میں دو باتیں تھیں جن کو آپ نے بیان کر دیا ہے اور اسی خواب کے عالم میں میں یہ کہتا تھا کہ آپ کے کشف کا تو میں قائل ہو گیا ہوں۔واللہ اعلم بالصواب۔بعض باتوں کی سمجھ بھی نہیں آتی ہے۔اس واسطے میرا خیال ابھی تک جناب کی نسبت یک رخہ نہیں ہے گو آپ کے صلاح و تورع کا میں قائل ہوں۔میں نے اگلے روز آپ کی کتاب سرمہ چشم آریہ کی ابتداء میں چند اشعار فارسی اور چند اردو پڑھتے ہیں اور وہ پڑھ کر مجھے رونا آتا تھا اور کہتا تھا کہ کذابوں کی کلام میں کبھی بھی ایسا درد نہیں ہوتا۔