فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 82 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 82

사 عن أحمد بن ادریس عن محمد بن عبد الجبار عن صفوان عن الفضيل عن الحرث بن المغيرة قال قلت لا لي عبد الله قال رسول الله من مات لا يعرف امامه مات مية جاهلية " یعنی احمد بن ادریس سے روایت ہے کہ اس نے محمد بن عبد الجبار سے اس نے صفوان سے اس نے فضیل سے فضیل نے حرث بن مغیرہ سے سنا کہ میں نے ابی عبداللہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص امام کے پہنچانے کے بغیر مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔(کلینی ما کتاب اہل تشعیه ) امام الزمان کی پہچان کر تا اور اس کو قبول کر نا کس قدر ضروری ہے یہ بات مندرجہ بالا احادیث سے بخوبی ظاہر ہو جاتی ہے جس طرح امام الزمان کے بنا جماعت نہیں بن سکتی اسی طرح امام الزمان کو پہنچانے بنا جاہلیت کی موت ہے نجات حاصل نہیں ہو سکتی۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مضمون کی احادیث وضعی ہیں اس پر جناب شمس پیر زادہ صاحب نے بھی " موضوع اور ضعیف حدیثوں کا چلن نامی کتابچہ میں اعتراض اٹھایا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ایسی باتیں اس وقت عام ہیں۔پیرزادہ صاحب کو اعتراض یہ ہے کہ اس کی اصل حدیث میں نہیں ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن کا اصل قرآن میں موجود ہو تو اس کو حدیث میں تلاش کرنے کی ضرورت ہی کیا قرآن احادیث پر حاکم ہے قرآن کریم کی بات کی یہ احادیث تائید کرتی ہیں امام کا ذکر جس طرح کہ احادیث میں ہے اسی طرح قرآن میں بھی ہے ملاحظہ فرمائیں يوم ندعوا كل انَّا سِ بَا مَا مِنهُمْ فَمَن أُوتِيَ كِتُبَهُ بِيَمِينِهِ - كَانَ في هذه أعلى نَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَ السلام کے بنی اسرائیل آیت ۷۲۴ ۷۳ ) ا انل سبيلاً