فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 97
94 ایسی ماری گئیں کہ سات ستمبر کو یہ اعلان کر دیا کہ بہتر فرقے اکٹھے ہیں، یہ مسلمان ہیں یعنی جنتی ہیں اور ایک جماعت احمدیہ ہے جو ناری ہے یہ تھی اصل حقیقت جنکی تعوذ باللہ من ذالک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ نہیں آئی اور پھر بڑے فخر کے ساتھ یہ لوگ افسے کو پیش کر تے رہے اور یہی کہہ کہ جماعت کے خلاف نت نئے مطالبے کئے جاتے رہے ؟ خطبه جمعه فرموده سید نا حضرت خلیفتہ ایک الرابع ایده منار على نهر العزيز موخه ی ارمی ۱۹۸۵ ء بمقام لندن) ما انا عليه و اصحابی کی بزرگان است میں سے حضرت امام مقاما مصداق جماعت کون ؟ قاری جنہوں نے مشکوۃ کی شرح لکھی ہے اور فقہ حنفیہ کے مسلم عالم میں بہتر فرقوں والی حدیث کی تشریح کر تے ہوئے لکھا ہے کہ فتلك اثْنَانِ وَ سَبعُونَ فِرْقَةُ كُلتَهُمْ فِي النَّارِو الْفَرْقَة النَّاجِيَة هُمُ أهْلُ السُّنَّةِ الْبَيْضَاءِ المُحَمَّدِيَّةِ وَالطَّريقَةِ التَّقِيَّةِ الْأَحْمَدَيَّةِ المرقاة المفاتيح شرح مشکوۃ المصابیح جلد اول مش۲۲) یعنی پس یہ بہتر فرقے سب کے سب آگ میں ہوں گے اور ناجی فرقہ رہ ہے جو روشن سنت محمدیہ اور پاکیزہ طریقہ احمدیہ پر قائم ہے۔قارئین جناب ملا علی قاری نے اس حدیث کی شرح میں جو خاص بات بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ وہ فرقہ روشن سنت محمدیہ اور پاکیزہ طریقہ احمدیہ پر قائم ہوگا ؟ بہتر فرقوں والی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناجی فرقہ کی نشانی یہ بیان فرمار ہے ہیں کہ ملانا علیہ واصحابی یعنی وہ میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہو گا۔پس جو فرقہ آپ کے نقش قدم پر ہوا وہی سنت محمدیہ پر بھی ہوا۔پھر ما انا علیہ واصحابی کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہوا کہ وہ فعلی اور عملی لحاظ سے میرے اور میرے صحابہ کی طرح ہوں گے اور عملی