فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 95
90 ۷۲ تمام فرقوں کی نمائندہ بنی ہوئی تھی اس میں شامل کر دیا۔اس طرح یہ بہتر جماعت احمدیہ کے بالمقابل اکٹھے ہو کر بیٹھ گئے اور الکفر ملت واحد بنے۔- پاکستان کی قومی اسمبلی اور مجلس عمل نے جو بھی فیصلہ کیا اس کا نتیجہ کیا ہوا اس بات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ ایسے الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں " اب اس بات کو اچھی طرح محفوظ رکھ لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب امت مسلمہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائیگی اور ایک تہترویں جماعت پیدا ہو گی اور وہ حق پر ہوگی تو بہتر فرقے لاز ما جھوٹے ہوں گے۔کیونکہ بچے ناری نہیں کہلا سکتے۔ایک ہی مقامات سچی ہے اور اُسے جماعت قرار دیا ہے کل تک جماعت احمدیہ کے تمام مخالفین خواہ سنی تھے خواہ شیعہ تھے اس حدیث کی صحت کے نہ صرف قائل تھے بلکہ وہابیہ فرقہ کے امام تو کہتے ہیں کہ مسلمان وہی ہے جو اس حدیث کو سچا مانتا ہے۔جو نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں۔پس شیعہ کیا اور سنی کیا ، وہانی کیا اور بریلوی کیا یہ تمام لوگ اس حدیث پر متفق ہیں اور تسلیم کر تے چلے آرہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے فرمایا ہے۔مگر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ ء کو پاکستا پر جو قیامت ٹوٹی وہ یہ تھی کہ اس دن ان سب نے جماعت احمدیہ کی تکذیب کے شوق میں نعوذ بالله من ذالك حضرت محمد مصطفے صلى اللہ علیہ وسلم کی تکذیب سے دریغ نہیں کیا اور بڑی جرات اور بے حیائی کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ یہ حدیث معاذ اللہ جھوٹی تھی، ہمارے بزرگ جھوٹے تھے جو اس حدیث کو سچا تسلیم کر گئے۔گویا ۷۴ ) کی اسمبلی کو اکثریت کے زعم میں مسئلہ یوں سمجھ آیا کہ بہتر سچے ہیں اور ایک جھوٹا ہے ، بہتر جنتی ہیں اور ایک ناری ہے۔چنانچہ اس مسئلہ کا فخر سے اعلان کیا گیا اور کیا جاتا رہا اور یہی مسئلہ ہے جس کو