فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 84 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 84

جماعت نہیں ہو سکتی اور جو جماعت نہ ہوگی وہ حدیث شریف کے مطابق اور قرآن کریم کے مطابق جنتی گروہ نہیں کہلا سکتا جس کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ امام الزمان کون ہے اور وہ جماعت کون سی ہے جس کا امام موجود ہے۔جب ہم مسلمان علماء سے بات کر تے ہیں تو کہتے ہیں ہم ہیں جماعت یہ دیکھو اہل سنت والجماعت جب سوال کریں کہ ٹھیک ہے اگر آپ جماعت ہیں تو بتاؤ کہ آپ کا امام کون ہے جس کو امام الزمان کہا جائے اور ساری دنیا کی اہلی سنت والجماعت اس کے پیچھے ہو تو سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہیں اگر کوئی زیادہ ہی اپنے آپ کو ہو شیار چالاک، بنائے تو اپنی بات چھوڑ کر دوہرہ کمیونٹی کی طرف چلی پڑتا ہے۔کہ ہاں ان کے ایک سید تا ہیں اور سارے دوہرے ان کے پیچھے ہیں۔اول بات تو یہ ہے کہ کیا دوہروں کا امام امام انترمان ہونے کا دعویدار ہے ؟ نہیں۔پھر امام الزمان کل عالم کا ہوتا ہے تو کیا سید نا کسی غیر دوہروں کو اپنی کمیونٹی میں داخل کرتے ہیں ؟ ہرگز نہیں تو جس کا دائرہ ہی محدود ہو دہ امام الزمان کیا۔ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ مسلمانوں میں جس قدر بھی فرقے پائے جاتے ہیں ان میں سے کسی فرقہ کا بھی امام نہیں سوائے جماعت احمدیہ کے۔جو یہ دعوی کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے امام الزمان بنا کر بھیجا ہے۔حضرت مرزا غلام احمد صا قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہی عین وقت پر جو چو دھویں صدی کا شروع تھا امام الزمان ہونے کا دعویٰ فرمایا اور ایک جماعت کی بنیاد رکھی جسے جماعت احمدیہ کہا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آب بالآخر سوال یہ باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الہ مان کون ہے جسکی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہروں اور خواب بینوں اور مہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالٰی کے فضل و عنایت سے وہ امام الزمان تیں ھوں۔اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور