فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 65
۶۵ (قائم) ہے اور جس کے پیچھے بھی اس کی طرف سے ایک گواہ آئے گا جو اس کا فرمانبردارہ ہو گا) اور اس سے پہلے بھی موسی کی کتاب (آچکی) ہے (جو اس کی تائید کر رہی ہے اور ) جو ر اس کے کلام سے پہلے) لوگوں کے لئے امام اور رحمت تھی ایک چھوٹے مدعی جیسا ہو سکتا ہے) وہ (یعنی موسیٰ کے سچے پیرو) اُس پر (ایک دن ضرور ایمان لے آئیں گے اور ان مخالف گروہوں میں سے جو کوئی انکار کرتا یر ہے گا، دوزخ اس کا موعود ٹھکانا ہے پس راے مخاطب) تو اس کے متعلق کسی قسم کے شک میں نہ پڑ۔وہ یقیناً حق ہے (اور ) تیرے رب کی طرف سے (ہے) لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔قرآن کریم کی یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی صداقت پر تین زبانوں کی شہادت بیان کہ یہ ہی ہے ماضی میں حضرت موسی علیہ السلام کی گواہی۔حال میں خود حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن نشان اور مستقبل میں ایک گواہ کیے آنے کی پیش خبری دے رہی ہے کہ وہ اگر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر گواہی دے گا۔خدا تعالے نے اپنی سنت کو اس جگہ بھی یاد کروایا ہے کہ اس آنے والے کے مخالف گروہوں میں سے جو کوئی بھی انکار کرے گا اس کا ٹھکانا آگ ہو گی۔اس سے مراد حضرت محمد مصطفے صل اللہ علیہ سلیم کا انکار کرنے والے اول نمبر پر ہیں پھر آنے والے کا انکار کر نے والے بھی اسی گر وہ میں شامل ہوں گے جن کا ٹھکانا آگ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آخر فی زمانہ میں پیدا ہو نے والے گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:- " وَعَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلی الله : عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَا تِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي كَمَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حد والتَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أتى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لكَانَ فِي أُمَتَى مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ اُمّتى على ثلث