فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 94 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 94

۹۴ میں ان سے جا کہ کہ دیتا ہوں کہ وزیر اعظم پاکستان سات کروڑ مسلمانوں کی بات سننے کو تیار نہیں۔" دارالعلوم دیو بند احیا را سلام کی عظیم تحریک ضد تا ص ۲۹۲) - رساله " بینات کراچی جنوری، فروری ۱۹۷۸ء ص ۳۶) مفتی صاحب موصوف کا یہ تیور اور انداز گفتگو دیکھ کہ بھٹو وزیرا عظم پاکستان کی انا سرنگوں ہوگئی ، اقتدار کے نشہ کا پارہ نیچے گر گیا اور انہوں نے مجلس عمل کے مجوزہ مسودہ پر دستخط کر دیئے ، اس طرح کے ستمبر ۱۹۷۴ء کو چار بج کر ۳۵ منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا۔دارالعلوم دیو بند احیاء اسلام کی عظیم تحریک تالیف مولانا امیر در وی دار المؤلفین دیوبند یو پی مه ۲ تا ۲۹۲ طبع اول ۶۱۹۹۱ خود مخالفوں نے اس بات کا تحریری اقرار کیا ہے کہ ہم سب کے سب سوائے جماعت احمدیہ کے اکٹھے ہیں اور اپنے میں سے جماعت احمدیہ کو الگ کر تے ہیں۔پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی نمائندہ مجلس عمل نے جماعت احمد یہ کہ غیر مسلم قرار دیا ہے اب سات کروڑ مسلمان جو پاکستان میں موجود ہیں جس کی نمائندہ مجلس عمل تھی اس میں سے کون سا فرقہ ہے جو باہر رہ جاتا ہے سب کے متفق تھے۔دوسری بات اس اقتباس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کی علومی اسمبلی میں جو ہوا اس کا اس فیصلہ سے کوئی تعلق نہیں جو جماعت کے خلاف کیا گیا۔قومی اسمبلی میں بحث ہوتی رہی کسی کو مسلم یا غیر مسلم قرار دینے کی بنیاد اس بحث پر ہونی چاہیے تھی لیکن بقول ان کے فیصلہ اس مجلس عمل نے دیا جو اسمبلی سے باہر تھی۔کہ مجلس عمل کے مجوزہ مسودہ پر بھٹو سے دستخط لئے گئے اور جماعت کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔اگر صرف قومی اسمبلی کے ممبران یہ فیصلہ کرتے تو بھی یہ بات رہ جاتی کہ اسمبلی کے ممبران تمام فرقوں کے نمائندے نہیں تھے۔لیکن خدا نے ایک طرف اسمبلی کو اس میں شامل کیا تو دوسری طرف مجلس عمل کو جو