فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 83
یعنی اور (اس دن کو بھی یاد کردم جس دن ہم ہر ایک گردہ کو ان کے امام (پیشوا) سمیت بلائیں گے پھر جن کے دائیں ہاتھ میں ان کے اعمال کی کتاب دی جائے گی وہ ربڑے شوق سے) اپنی کتاب کو پڑھیں گے اور ان پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور جو اس دنیا میں اندھا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر بھٹکا ہوا ہوگا۔قرآن کریم کی یہ دونوں آیتیں امام الزمان کی ضرورت اور اس کی اہمیت کو کسی طرح وضاحت کے ساتھ پیش کر رہی ہیں اول بات یہ بتائی کہ اس دن یعنی قیامت کے دن ہم ہر ایک گروہ کو ان کے امام کے ساتھ پکاریں گے۔اور وہ لوگ جو امام کے ساتھ پکارے جارہے ہوں گے۔ان کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ہوں گے گویا کہ وہ کامیاب ہو گئے اور جنت میں جانے والے ہیں پھر وہ اس کو خوشی خوشی پڑھیں گے اور ایک ذرہ برا سر بھی ان پر ظلم نہیں ہوگا یہ برکت ہوگی امام الزمان کی شناخت کی اور اس سے تعلق جوڑنے کی۔پھر وہ لوگ جو اس امام کی اس دنیا میں رہتے ہوئے شناخت نہیں کر تے ان کے بارے میں اگلی آیت ہی وضاحت پیش کر رہی ہے کہ چونکہ انہوں نے اس امام الزمان کو اس دنیا میں شناخت ہی نہیں کیا ہو گا اس لئے وہ اس کو شناخت نہ کر سکے اندھے نظر آئیں گے۔اور شناخت نہ کرتا یہی جہالت ہے اور حدیث میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ جس شخص نے بھی امام الزمان کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔کہ قیامت کے دن بھی وہ بنا امام کے ہوگا اور جا ہی ہوگا۔پھر ساتھ ہی قرآن کریم نے ان جاہوں کی سزا بھی تبادی کہ وہ راہ سے بھٹکا ہوا ہوگا۔اور جو راہ سے بھٹک جائے اس کا ٹھکانا جو تم کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔- قرآن کریم کی ان آیات اور احادیث پر غور کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ہر نہ مانہ کا ایک امام ہوتا ہے اور بغیر نام کے