فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page vii of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page vii

پیش لفظ قارئین کرام ! اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کی بات کرتے وقت جہاں نظریاتی اختلافات ہوں وہاں فوراً یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ اسلام وہ خالص واحد دین ہے ہمیں کوئی بھی فرق نہیں تھا مگر افسوس یہ نظریاتی اختلافات ہی فرقوں کی پیدائش کے باعث سے محمد رسول اللہ صلی ال علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بنی اسرائیل میں تو بہتر فرقے ہوئے لیکن میری امت میں بہتر ہو جائیں گے۔اسلئے ان فرقوں کا وجود میں آنا بھی نبی سے علیہ الصلواۃ والسلام کی پیشگوئی کی صداقت پر دال ہے لیکن قابل افسوس پہلوان کا ایک دوسرے کو کافر بنانا ہے۔عبرت۔۔۔۔مسلمانوں میں جس قدر بھی فرقے ہوتے ہیں ان تمام ہی فرقوں کے علامہ نے آپسمیں ایک دوسر کو اسلام دشمن یعنی کا فرکی سند عطا کی ہے لیکن رہے حیرت انگیز تاریخ کا صرف وہ منفرد باب ہے اور وہ ہے خلاف شریعت طاقت کا طاغوتی مظاہرہ میں نے آنسوؤں کو بھی رونے پر مجبور کر دیا پاکستان کی قومی امبلی کا فتوئی جو جماعت ناجیہ پر نافذ کیا گیا جس میں عش کمار کے سبھی سند یافتہ فرقے متفق ہو گئے نتیجتاً جماعت حق کو اسلام سے خارج کر دیا گیا۔اسکے بعد افراد جماعت جہاں بھی خالص دین اسلام کی سنت نبوی کے مطابق تبلیغ کرتے ہیں پاکستان کے غیر شرعی فیصلے کا حوالہ دیکر بھر پور مخالفت کی جاتی ہے۔میں نے اس کتاب میں مسلمانوں کے فرقوں مولویوں کے آپسی گھر کے فتوؤں اور جماعت ناجیہ پر پاکستانی قومی اسمبلی کے وضع کردہ فیصلے کا عوامی زبان میں جائزہ پیش کیا ہے اور حتی المقدور کوشش یہ کی ہے کہ حوالہ اصل کتاب سے من و عنے دیا جائے گو کہ تمام کتب