فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 96
۹۶ موجودہ حکومت کی طرف سے بھی مزعومہ قرطاس ابیض میں اچھالا جارہا ہے۔غرض یہ ایک بہت بڑی جسارت اور بغاوت تھی جس کا ہے تمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے ارتکاب کیا حالانکہ جماعت احمدیہ کے اُس وقت کے ا نام کی طرف سے قومی اسمبلی کے سامنے بار بار اور کھلے لفظوں میں تنبیہ کی گئی تھی کہ تم شوق سے ہمارے دشمن بن جاؤ جو کچھ چاہو ہیں کہتے رہو۔لیکن خدا کے لئے اسلامی مملکت پاکستان میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تو علم بغاوت بلند کر نے کی جسارت نہ کرو کل تک تم یہ مانتے چلے آرہے تھے کہ اگر بہتر اور ایک کا جھگڑا چلا تو بہتر ضرور جھوٹے ہوں گے۔اور ایک تہترواں ضرور سنچا ہو گا ہر لئے کہ اصدق الصادقین کی پیشگوئی ہے کہ بہتر جھوٹے ہوں گے یعنی اکثریت جھوٹی ہو گی۔اور ایک فرقہ سچا ہوگا۔مگر آج جماعت احوریہ کو جھوٹا بنانے کے شوق میں تم یہ اعلان کر رہے ہو کہ بہتر سچے ہیں اور صرف ایک جھوٹا ہے۔اس کا تو گویا یہ مطلب بنتا ہے کہ معرفت کا جو نکتہ ان کو سمجھ میں آگیا ہے وہ نعوذ بالله من سے ذالك حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی سمجھ میں بھی نہیں آیا۔یہ در اصل اعلان بغاوت تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیا گیا۔ایسے لوگ اسلام میں رہ ہی نہیں سکتے۔اور کوئی جرم تھا یا نہیں مگر جس دن حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشاد کے خلاف کھلی کھلی بغاوت کا ارتکاب کیا گیا اُس دن ضرور یہ غیر سلم بن گئے تھے کیونکہ آنحضور کا ارشاد شک و شبہ سے بالا ہے اور چوٹی کے علماء اور مختلف فرقوں کے بانی مبانی اُسے مانتے چلے آتے ہیں بلکہ اسے اسلام کی پہچان قرار دیتے رہے ہیں۔مگر یہ سب کے سب اُس دن ایسے پاگل ہو گئے اور ان کی عقلیں