فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 93
۹۳ دے کر چلا رہے تھے، مفتی صاحب ہی مجلس عمل کے نمائندے کی حیثیت سے وزیرا عظم سے مذاکرات کر رہے تھے۔مذاکرات کی بار بار نشستوں سے تنگ آکر ایک دن انہوں نے وزیر اعظم سے فرمایا آپ نہیں بتاتے کہ ہم کیا کریں ؟ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کی رائے میں کوئی لچک نہیں آتی اور مجلس عمل والوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ اپنے مطالبہ سے کم پر راضی ہونے کے لئے تیار نہیں۔وزیر اعظم بھٹو کے دماغ پر اقتدار کا نشہ چڑھا ہوا تھا انہوں نے بڑے ہی مغرورانہ انداز میں کہا کہ :۔- میں مجلس عمل کو کچھ نہیں سمجھتا ہوں، ان کی کیا حقیقت ہے ؟ میں تو آپ لوگوں کو جانتا ہوں، آپ اسمبلی کے معزز ممبر ہیں ، میں اُن لوگوں کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوں ،، مفتی محمود صاحب کی حمیت دینی اور غیرت ایمانی بھڑک اٹھی اور اس نے مغرور وزیر اعظم سے صاف صاف دو ٹوک اور کھری کھری بات کہنے پر مجبور کر دیا۔انہوں نے مسٹر بھٹو وزیرا عظم سے سیکھے تیور سے کہا کہ : ٹھٹو صاحب ! آپ کو قوم کے صرف ایک حلقہ نے منتخب کر کے بھیجا ہے اس لئے آپ تو اسمبلی کے ایک معزز رکن ہو گئے ہیں میں بھی ایک حلقہ انتخاب سے چن کہ آیا ہوں اور ان کا نمائندہ ہوں، اس لئے میں بھی اسمبلی کا رکن کہلاتا ہوں۔مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ مجلس عمل کسی ایک حلقہ انتخاب کی نمائندہ نہیں بلکہ وہ اس وقت پاکستان کے بات کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کہ یہ ہی ہے کیسی عجیب منطق ہے کہ آپ ایک حلقہ کے نمائندہ کہ عزت و احترام کا مقام دیتے ہیں مگر قوم کے سات کہ وڑ افراد کی نمائندہ مجلس عمل کو آپ پائے حقارت سے ٹھکرا رہے ہیں ؟ بہتر ہے؟