فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 151
۵جواب۔مَنْ اَدْرَکَ الرُّکُوْعَ میں مَنْ کا کلمہ عام ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں اپنے عموم پر نہیں۔دیکھو ایک شخص نے وضو نہیں کیا اور مدرک رکوع ہو گیا یا اللہ اکبر نہیں کیا نہ اس کے بدلےخدائے بزرگ کہا اور مدرک رکوع ہو گیا یا قیام نہیں کیا۔اب فرمایئے ایسے مدرک رکوع کی رکعت ہوئی یا نہ ہوئی درصورت اوّل اجماع کے یا آپ کے ضرور خلاف اور دوسری صورت میں سوال ہے کہ عام عام نہ رہا۔کیونکہ حدیث مَنْ اَدْرَکَ میں یہ بیان نہیں کہ مَنْ اَدْرَکَ الرُّکُوْعَ بَعْدَ التَّکْبِیْرِ وَ بَعْدَ الْقِیَامِ بَلْ وَ بَعْدَ الْوُضُوْءِ اگر آپ لوگ اور دلائل سے یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ شمول رکوع بعد وضو اور تکبیر اور قیام ہو پس جیسے دلائل سے رکوع کے پہلے وضو اور تکبیر او ر قیام کی ضرورت ثابت کرتے ہیں ویسے ہی دلائل سے رکوع کے پہلے قراءت فاتحہ کی ضرورت کیوں نہیں مانتے۔دوسرا سوال۔عَنِ الْـحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهٗ اِنْتَهَىٰ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَّصِلَ إِلَى الصَّفِّ، فَذَكَرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: زَادَكَ اللهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ۔متّفق علیه۔{ FR 4776 } تفصیل اعتراض یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوبکرہ کو اعادہ کا حکم نہیں دیا باوجودیکہ ابوبکرہ نے قراءة نہیں پڑھی تھی۔معلوم ہو ارکعت اس کی رکوع میں ملنے سے پوری ہوئی کیونکہ ضرورت کے وقت سکوت بیان ہوتا ہے اور سکوت تقریر ہے۔اور تقریر حجت ہے۔۱جواب۔امام بخاری نے اس سوال کا نہایت لطیف جواب دیا۔نفسی فدا جوابه ما اعجبه و ما احسنه، قَالَ (الْإِمَامُ) الْبُخَارِيُّ: فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَعُودَ لِمَا نَهَى النَّبِيُّ صلَّى اللهُ { FN 4776 } حسن (بصریؒ) نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے وقت پہنچے جبکہ آپؐ رکوع میں تھے تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا۔پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپؓ کو (نیکی کی) حرص میں اَور بڑھائے، پھر ایسا نہ کرنا۔(صحیح البخاری، کتاب الأذان، بَابُ إِذَا رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ)