فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 135
دَلَالَةُ النَّصْ کی تعریف میں لکھا ہے هِيَ مَا علم (أَي مَعْنى علم إِنَّهٗ) عِلّةٌ لِلْحُكْمِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ (أَي اَلْحُكْمُ الَّذِيْ وَرَدَ بِهِ النَّصُّ) لُغَةً (أَيْ يَعْرِفُ عِلَّتَهٗ مَنْ هُوَ عَارِفٌ بِلُغَةِ الْعَرَبِ وَنَحْوِهَا) لَااِجْتِهَادًا وَلَااِسْتِنْبَاطًا (أَيْ لَا يَحْتَاجُ فِي مَعْرِفَةِ عِلَّتِهٖ إِلَى التَّأَمُّلِ وَالْاِسْتِنْبَاطِ)۔{ FR 4714 } جیسے قرآن کریم میں ہے لَاتَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ مکلف کو حکم ہوا ماں باپ کو اُف مت کرو سننے والا عَالِمٌ بِاللُّغَةِ سمجھ سکتا ہے کہ والدین کو مارنا پیٹنا ضرور ممنوع ہو گا۔اور یہاں نہ تو رکعت سے رکعت لُغوی مراد ہے اور نہ صلوٰة سے صلوٰة لُغوی اور نہ قراءت اپنے عموم پر ہے کیونکہ قرائت کے معنی ہیں مطلق پڑھنا اور یہاں قراءت قرآن مراد ہے۔نہ شارع نے دونوں رکعت میں تسویہ کا حکم دیا نہ فی الواقع تسویہ ہے۔ارکان کے لحاظ سے اکثر رکنوں میں سب رکعتیں مساوی ہیں۔بعض صفات کا تفرقہ سب میں ہے۔اِقْرَأْ فِی الصَّلوٰةِ کا مخاطب عالم باللُّغة یہ تو سمجھ سکتا ہے کہ دعا میں کچھ پڑھو اگر اسے صلوٰة کے شرعی معنے بتاویں تو پھر بھی شَفَع اور قیام کی تخصیص قراءت کے واسطے ہرگز نہیں سمجھ سکتا۔علاوہ بریں اگر ایسا ہی تبادر ہوتا جیسا ابن الہمّام نے لکھا ہے۔(قَالَ ابْنُ الهُمَامِ:) مَنْ فَهِمَ اللُّغَةَ ثُمَّ عَلِمَ تَسْوِيَةَ الشَّارِعِ۔۔۔ثُمَّ سَمِعَ۔۔۔اِقْرَأْ فِي الصَّلَاةِ تَبَادَرَ إلَيْهِ طَلَبُ الْقِرَاءَةِ فِي الشَّفْعِ الْأَوَّلِ أَوِ الثَّانِي { FR 4715 } تو اَئمہ مذاہب میں ایسا اختلاف نہ ہوتا اور مسئلہ کا اختلاف نو طرح تک نہ پہنچتا۔صاف ظاہر ہے کہ اِقْرَأْ فِی الصَّلوٰةِ کا مخاطب صرف اس خطاب کے لحاظ سے حسب لغت دعا میں کچھ پڑھ { FN 4714 } یہ وہ علم ہے (یعنی علم کا معنی یہ ہے) کہ منصوص علیہ کے حکم (یعنی ایسا حکم جس کے متعلق نصّ آئی ہو، یعنی قرآن وحدیث میں ذکر ہو) کی علّت ُلغت سے ثابت ہو، (یعنی اس کی علت کو عربی زبان اور اس کے اصول کو جاننے والا معلوم کرلے) اجتہاد سے نہ ہو اور نہ ہی استنباط سے ہو، (یعنی اس کی علت کو سمجھنے کے لیے غوروفکر اور استنباط کی ضرورت نہ پڑے)۔(أصول الشاشي، بحث كَون حكم دلَالَة النَّص عُمُوم الحكم الْمَنْصُوص عَلَيْهِ) { FN 4715 } (ابن ہمام نے کہا:) جس نے لغت کو سمجھ لیا پھر اس نے شارع کے فیصلہ کو بھی جان لیا… پھر اس نے سنا … نماز میں قراءت کرو تو قراءت کی طلب اُس سے پہلی دورکعات میں یا دوسری دورکعات میں جلدی کروائے گی۔(فتح القدیر لابن الھمام، کتاب الصلاة، باب النوافل، فصل فی القراءة)