فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 120
صاحبِ من آپ لوگوں نے تو اس مسئلہ میں ادلّہ قرآن و حدیث کو متعارض پایا ہے۔اگر احادیث سے آپ کا دلیل پکڑنا کافی اور صحیح ہوتا تو عقل اور قیاس سے استدلال نہ پکڑتے اور نہ کہتے۔قَدْ تَعَارَضَ الْاَدِلَّةُ فَرَجَعْنَا اِلَی الْقَیَاسِ۔قَالَ (الْمَوْلَوِیْ) وَعَلَیْہِ اِجمَاعُ الصَّحَابَةِ (سَمَّاہُ اِجْمَاعًا بِاِعْتِبَارِ الأکثر)۔{ FR 4693 } فقیر۔بَلْ عَلٰی خَلَافِہٖ کَمَا رَأَیْتَ فَانْصَفْ۔{ FR 5183 } قال۔و ھو رکن مشترک بینہما و لٰکن خطو المقتدی الانصات و الاستماع قال وَ إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا۔{ FR 4694 } فقیر۔نعم رکن مشترک۔والقراءة السریّة لاینافی الانصات انظر الی حدیث فیہ ما اسکاتک بین التکبیر و القراءة ما تقرأ، مع ان اللفظ وھم والعام یبنی علی الخاص۔و قد مرّ بسط الجواب۔{ FR 4695 } قال۔و یکرہ عندہما (ای الشیخین)۔{ FR 5184 } فقیر۔اترک ذَینک الشیخین اذا لم { FN 4693 } دلائل میں اختلاف ہے لہٰذا ہم قیاس کی طرف لَوٹے ہیں۔مولوی (عبد الحی) صاحب نے کہا: اور اس بات پر صحابہ کا اجماع ہے۔(انہوں نے اکثریت کی وجہ سے اسے اجماع کا نام دیا ہے ) { FN 5183 } لیکن یہ (اکثریت) تو اس کے خلاف ہے جیسا کہ تم نے دیکھ لیا ہے پس انصاف سے کام لو۔{ FN 4694 } اور (نماز کا) یہ رُکن دونوں کے مابین مشترک ہے لیکن مقتدی کی اطاعت خاموش رہنا اور توجہ سے سننا ہے۔آپؐ نے فرمایا: اور جب (امام) پڑھے تو خاموش رہو۔{ FN 4695 } ہا ں (نماز کا) یہ رُکن مشترک ہے۔اور سرّی (نمازوں کی) قراءت خاموش رہنے کے منافی نہیں، اس حدیث کو دیکھو جس میں ہے کہ تکبیر اور قراءت کے درمیان آپؐ کی خاموشی کیونکر ہے، آپؐ (اس میں) کیا پڑھتے ہیں؟ اس (بات) کے ساتھ(دیکھو) کہ اس لفظ میں گمان ہے اور عام کی بناء خاص پر ہوتی ہے۔اور (اس کا) تفصیلی جواب گذر چکا ہے۔{ FN 5184 } ان دونوں (بزرگوں یعنی امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف) کے نزدیک یہ ناپسندیدہ ہے۔