فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 52
خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْ تَّ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ{ FR 4589 } آہ۔اس حدیث میں راوی حدیث رسول اللہؐ کو تکبیر اور قراءت کے درمیان ساکت بھی کہتا ہے اور اُس وقت کا پڑھنا بھی پوچھتا ہے۔معلوم ہوا کہ سکوت کچھ پڑھنے کے خلاف نہ تھا اور رسول ِکریم نے اس کے اس کہنے اور سوال کرنے کو غلط نہ فرمایا بلکہ جواب دیا کہ میں اس سکوت کے وقت اَللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْــنِیْ الخ پڑھتا ہوں۔مولوی صاحب انصاف فرمائیے اور موت کو یاد کیجیے اور تَقَطَّعَتْ بِـھِمُ الْاَسْبَاب { FR 4951 } والوں کے حال سے پناہ پکڑیئے۔اس ہماری تقریر پر ایک فاضل نے یوں اعتراض فرمایا ہے کہ سماع اور استماع میں فرق ہے۔یہاں استماع کا حکم ہے اور استماع تدبر کو اور یہ خیال نہ فرمایا کہ استماع بمعنی تدبر کیا عامیوں کے واسطے بھی فرض ہے۔یہاں تک آیت شریف سے فاتحة الکتاب نہ پڑھنے کا کہتے ہیں اِنْتَہٰی۔جواب ختم ہوا باوجودیکہ آیت سِرِّی نمازوں میں حجت ہی نہ تھی۔اگر انصاف سے دیکھتے۔دوسرے اعتراض کا جواب تقریر سوال یہ ہے عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهٖ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوْا وَإِذَا قَرَأَ فَاَنْصِتُوْا۔رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إلَّا التِّرْمُذِيْ، { FN 4589 } حضرت ابو ہريرہؓ سے روايت ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ميں تکبير کہتے تو قراءت سے قبل کچھ دير خاموش رہتے۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی کے متعلق بتائیں کہ آپؐ (اس دوران) کیا پڑھتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری ڈال دے جتنی دُوری تو نے مشرق اور مغرب کےدرمیان ڈالی ہے۔(نَيْلُ الأوطار، کتاب اللباس، أبواب صفة الصلاة، بَابُ ذِكْرِ الِاسْتِفْتَاحِ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ) { FN 4951 } جن(کی نجات) کے تمام ذرائع منقطع ہو جائیں گے۔