فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 134
والوجوب تیسری رکعت کو بھی حاصل ہے پس حسبِ استدلال ثلاثی نماز کی تیسری رکعت میں قراءت فرض ہونی چاہیے۔یا بالعکس یوں کہیے کہ پہلی رکعت میں تعوّذہے‘ ثنا ہے‘ تکبیر تحریمہ ہے‘ قعدہ اور تشہد اس کے ساتھ نہیں بخلاف دوسری رکعت کے اور ایک رکعت کے ساتھ والی فرض ضرور نہیں کہ دوسری رکعت کے ساتھ بھی ہوں۔دیکھو پہلی رکعت کے ساتھ تحریمہ ہے۔دوسری کے ساتھ نہیں یا رباعی نماز کی رکعت اخیر کے ساتھ قعدہ فرض ہے اور اس کی تیسری کے ساتھ فرض نہیں۔پس اگر قراءت پہلی رکعت میں فرض ہے تو دوسری میں بِـاِ یْـجَابِ تَشَاکُل فرض نہ ہونی چاہیے علاوہ بریں آپ کا استدلال اگر صحیح ہوتا تو پہلی اور دوسری رکعت میں یا تیسری اور چوتھی ہی میں قراءت فرض ہوتی حالانکہ آپ لوگ بالاتفاق اس کے قائل نہیں۔دیکھیے عینی نے کہا ہے۔قال الإمام الأسبيجابي "قال أصحابنا: القراءة فرض في الركعتين بغير أعيانهما إن شاء في الأوليين وإن شاء في الأخريين، وإن شاء في الأولى والرابعة، وإن شاء في الثانية والثالثة، (إلٰی أَنْ قَالَ) وأفضلها في الأوليين، وكذا قال القدوري۔{ FR 4713 } بلکہ خود بدولت کے متن میں بھی رکعتیں کو مطلق رکھا ہے۔اولیین کے ساتھ مقید نہیں کیا بھلا جب جب دوسری اور تیسری رکعت میں یا پہلی اور چوتھی میں کسی نے قراءت پڑھی تو کیا آپ کے استدلال کا خلاف نہ کیا ضرور کیا بلکہ جس نے پہلی رکعت میں قراءت پڑھی اس پربخيال استدلال دوسری رکعت میں بھی قراءت فرض ہونی چاہیے اِلاَّ اُس نے دوسری میں نہیں پڑھی‘ چوتھی میں پڑھی ہے پس دوسری رکعت میں فرض کا تارک ہوا ایسے ہی جب اس نے چوتھی میں پڑھی تھی تو حسب استدلال تیسری میں بھی قراءت فرض تھی اور اس نے نہیں پڑھی کوئی یہ جواب نہ دے کہ یہ استدلال بِدَلَالَةِ النَّصْ ہے نہ بقیاس شبہ کیونکہ { FN 4713 } امام اسبیجابی نے (طحاوی کی شرح میں )کہا کہ ہمارے ساتھیوں نے کہا ہے کہ قراءت کرنا دو رکعتوں میں فرض ہے بغیر ان (رکعات) کی تعیین کے، اگر چاہے تو پہلی دو میں (کرلے) اور اگر چاہے تو دوسری دو میں (کرلے) اور اگر چاہے تو پہلی اور چوتھی میں (کرلے) اور اگر چاہے تو دوسری اور تیسری میں (کرلے، یہاں تک کہ انہوں نے کہا:) اور افضل پہلی دو ہیں اور قدوری نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔(البناية شرح الهداية، کتاب الصلاة، باب النوافل، فصل فی القراءة، حکم القراءة فی الفرض)