فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 111

پندرہواں اعتراض قراءت فاتحہ خلف الامام عقل (قیاس) کے خلاف ہے۔احادیث اور آثار باہم متخالف بقیہ حاشیہ : سوائے ذکر الٰہی اور مناسب حال تسبیح اور تمجید کےاور اللہ کے فرمانبردار ہوکر کھڑے ہوجاؤ۔سیوطی نے درّ منثور میں اس کا ذکر کیا ہے اور مسلم، ابوداؤد، نسائی، احمد اور ابن ابی شیبہ نے حضرت معاویہ بن حکم سلمیؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: اس دوران کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری تو میں نے کہا: يَرْحَمُكَ اللهُ (یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے)اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے۔میں نے کہا: ہائے! میری ماں مجھے کھوئے، تمہیں کیا ہوا ہے کہ مجھے (اس طرح) دیکھ رہے ہو؟ اس پر وہ اپنے ہاتھ مارنے لگے، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی، میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، میں نے آپؐ سے اچھا معلّم نہ تو آپؐ سے پہلے کوئی دیکھا اور نہ آپؐ کے بعد۔اللہ کی قسم! آپؐ نے نہ تو مجھے ڈانٹا اور نہ ہی مارا اور نہ ہی بُرا بھلا کہا۔آپؐ نے فرمایا: اس نماز میں لوگوں کا کچھ بھی بات کرنا درست نہیں، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن کرنا ہے۔اور یہ اذکار کرنا ہرگز نماز کے منافی نہیں، تو ان کی وجہ سے نماز کے فساد کا فیصلہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے! اور جیسا کہ دلائل سے ظاہر ہے اس کا مکروہ یا حرام ہونا بھی لازم نہیں آتا۔اور اللہ کی قسم میں تو اس کام سے سخت تعجب میں ہوں کہ یہ قول ان کی کتابوں میں درج ہے، اس حال میں کہ وہ اس پر خاموش ہیں اور انہوں نے اس کے غلط اور قابل ردّ ہونے کا فیصلہ نہیں دیا۔اور جو انہوں نے کہا اُس کا لُبِّ لباب یہ ہے کہ عدمِ فساد ہونا زیادہ درست ہے اور انہوں نے اس کے صحیح ہونے اور جو اس کی مخالفت کرے اُس کے صریحاً غلط ہونے کا حکم نہیں دیا اور اس کمزور قول کے ماننے والوں نے اس اثر کی طرح کہ جس نے امام کے پیچھے پڑھا اس کی نماز نہیں، بعض آثار صحابہ سے جو انتہائی استدلال کیا ہے (اس کی غلطی کی طرف توجہ نہیں دلائی) اور تم جان لو گے کہ یہ بات ایسی ہے کہ جسے حجت نہیں بنایا جاتا اور جس سے استدلال نہیں کیا جاتا۔اور(علّامہ سَرْخَسِیْ ) اور اُن کے پیروکاروں نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ نماز کے فاسد ہونے کا عقیدہ متعدد صحابہ کا ہے تو اُن سے کہا جائے کہ کس صحابی نے یہ بات کہی ہے اور کس محقق نے اس کی تخریج کی ہے اور کس راوی نے اسے روایت کیا ہے؟ اور (سَرْخَسِیْ) کی ایسی روایت کو حجت بناتے ہوئے جو کسی شمار میں نہیں، بغیر کسی متصل سند کے محض اس بات کا ان (صحابہ) کی طرف منسوب کرنا، اُنہیں اس سے بری کرتا ہے۔(إمام الکلام فیما یتعلّق بالقراءة خلف الإمام، صفحہ 12، مطبوعہ مطبع مصطفائی)