فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 22
ساتواں جواب۔مانا کہ آیت عام ہے اِلاَّآپ کے نزدیک آیت قطعی الدلالت نہیں کیونکہ کہیں قراء ت سے حقیقی قراءت مراد لیتے ہو جیسے امام اور منفرد میں اور کہیں قراءت سے قراءت مجازی۔بھلا جہاں یہ حقیقت اور مجاز ایک لفظ میں جمع ہوں( باوجودیکہ آپ کے یہاں منع ہے۔)پھر اس کی آپ تفریق کریں تو آیت کا قطعی الدلالتہونا کیونکہ ثابت ہو سکے اور جو قطعی نہ ہو وہ آپ کے نزدیک مثبت فرضیت نہیں۔آٹھواں جواب۔ہم نے مانا کہ عام ہے قطعی الدلالة ہو یا نہ ہو اِلاَّ عام قرآنی کی تخصیص سنت ثابتہ سے صحابہ کرام نے جائز رکھی ہے اور ان میں معمول تھی۔کسی صحابی سے بھی ثابت نہیں کہ اُس نے عمومات قرآنی کی تخصیص کو جائز نہ کہا ہو۔اگر کسی صحابی سے ثابت ہے تو آپ صحیح یا حسن اثر سے ثابت کر دیجیے اور فرضیت فاتحہ پر ایسی سنت ثابتہ موجود ہے اور سابق اس کا ذکر ہو چکا۔نواں جواب۔صحابہ کرام کا معمول تھا کہ اخبار احاد پر عمل کرنے اور عمومات قرائنہ کی تخصیص خبر احاد سے فرمایا کرتے تھے۔خبرِاحاد پر عمل کرنے کی دلیل میں تو مُسلَّم الثَّبوت ہے کھول کر دیکھو انشاء اللہ تعالیٰ منصف حنفی کے واسطے کافی ہو گا۔التعبّد بخبر الواحد جائز خلافًا للجبائی۔ثم قال التعبّد بخبر الواحد واقعٌ خلافًا للروافض وطائفة اِلٰی ان استدلّ عَلٰی ذالک باجماعِ الصّحابة فَقَالَ و ثانیًا اجماع الصحابة۔و فیھم عَـلِیٌّ بدلیل ماتواتر عنھم من الاحتجاج و العمل بہٖ فی الوقائع التی لاتحصی من غیر نکیر و ذالک یوجب العلم عادة باتّفاقھم کالقول الصّریح۔فمن ذالک انہ عمل الکلّ بخبر ابی بکر الائـمّـة من قریش و نحن معشر الانبیاء وَ الانبیاء ید فنون حیث یموتون و ابوبکر بخبر المغیرة فی توریث الـجدَّة و بـخبر عبد الرحـمٰن بن عوف فی جزیة المجوس و بخبر حـمال بن مالک فی ایجاب الغرّة بالجنین و بخبر الضحّاک فی ایراث الزّوجة من دیّة الزوج و بخبر عمرو بن حزم فی دیة