فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 17 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 17

بعد اس تمہید کے عرض ہے کہ فَاقْرَءُوْا مَاتَیَسَّرَ میں حسب اقتضائے امر آپ کے اصول سے ایک دفعہ تمام عمر میں قرآن کا پڑھنا فرض ثابت ہوتا ہے۔خواہ مومنین نماز سے باہر پڑھ لیں خواہ نماز میں۔جب کسی مسلمان نے عاقل بالغ مکلّف ہونے کے بعد یا کافر نے مسلمان ہونے پر نماز سے پہلے کچھ قرآن پڑھ لیا تو آپ کے نزدیک فَاقْرَءُ وْا مَاتَیَسَّرَ پر عمل کر چکا۔اب اس کو بلحاظ اس آیت اور آپ کے اصول کے کسی نماز میں بھی قرآن کا پڑھنا ضروری نہ رہا۔اگر فرضیت کا حکم اسی آیت یا اور دلیل سے کرو گے تو حکم تکرار ایزاد ہو گا۔اور وہ نسخ ہے۔کیونکہ وہ فرض ادا کر چکا ہے اور امر کی تعمیل ہو چکی اب دوبارہ کس دلیل سے اس کے ذمہ پڑھنا لازم ہوتا ہے۔یہ آیت شریف تو مامور نہیں بناتی پس ہر نماز میں ہمیشہ کے لئے مطلق قراءت کا پڑھنا بھی اس امر سے ثابت نہ ہوا۔بہرحال جب ایزاد ثابت کرو گے تو آپ کو آیت کا منسوخ ماننا پڑے گا۔بلکہ فرضیت مطلق قراءت کا ہی نماز میں انکار کرنا۔تیسرا جواب۔حسبِ تحریرآپ کے اور آپ کے اہل اصول کے یہ آیت عام ہے اور عام کی تخصیص کو آپ لوگ نسخ کہتے ہیں اور آپ نے اس حکم کو نماز میں خاص کر لیا پس یہ آیت آپ کے نزدیک منسوخ ہوئی۔کیونکہ عموم فرضیت قراءت کا مقتضی یہ تھا کہ مکلف کو قرآن پڑھنے میں اختیار ہے نماز کے باہر پڑھ لے یا نماز کے اندر اور آپ نے تخییر کو توڑ دیا۔اور یہی تخصیص تھی۔اگر کہو شان ِنزول نے تخصیص کی ہے تو اس پر ا۱وّل یہ اعتراض ہے کہ عام عام نہ رہا بلکہ مخصوص ہو گیا دوسرا یہ کہ اَلْعِبْرَةُ لِعُمُوْمِ اللَّفْظِ لَا لِـخُصُوْصِ السَّبَبِ { FR 4823 }؂ بھی آپ کے مسلّم اصول میں سے ہے۔اس کو کیوں توڑا۔تنبیہ۔یاد رہے تخصیص کو اہل حدیث نسخ نہیں کہتے تخصیص اور نسخ میں بڑا فرق سمجھتے ہیں۔{ FN 4823 }؂ نصیحت لفظ کے عموم سے ہوتی ہے نہ کہ کسی خاص سبب سے۔(کشف الأسرار شرح أصول البزدوی، باب معرفۃ أحکام العموم)