فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 168 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 168

اور کتب اصول میں شاشی اور فصول وغیرہ سے لے کر تلویح تک یہ حدیث بیان کی گئی۔تکثر لکم الاحادیث من بعدی فاذاروی لکم عنی فاعرضوہ علی کتاب اللہ { FR 5339 }؂ الخ۔اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ حدیث بخاری میں ہے فصول کی عبارت مفصل مذکور ہو چکی اور علامہ نے تلویح میں اس پر فرمایا وایراد البخاری ایاہ فی صحیحہ لاینافی الانقطاع او کون احد رواتہ غیر معروف بالروایة۔{ FR 5340 }؂ اور اس پر ایک ایسا اصولی قاعدہ جمایا گیا جس کے ذریعہ سے صدہا احادیث ردّ کر دیں حالانکہ بخاری میں یہ روایت بالکل نہیں اور ان سب یا اکثر اصولیوں کا نسبت کرنا محض غلط ہے۔مجھے اس تذکرہ سے یہ مطلب ہے کہ ناظرین رسالہ سوچیں اور یہ یقین کریں کہ اکابر علماء سے بھی غلطی ہو جاتی ہے اور نفس الامر کے خلاف ان سے سرزد ہو جاتا ہے۔پس ترک تحقیق اور جمود علی التقلیب حق طلبی کے بالکل خلاف ہو گا اور اہل حدیث کی نسبت کیدانی جیسوں کے اقوال پسند کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔علی قاری کے فقرات اور مولوی عبد الحی صاحب کے اس انصاف کو دیکھیں جو مذکور ہے اور طحطاوی نے دُرّمختار کی شرح میں اس فرقہ اور اس کی کتابوں کے حق میں جو کہا اسے بغور پڑھیں۔قال فان قلت ما وقوفک علی انک علی صراط مستقیم و کل واحد من ھذہ الفرق یدعی انہ علیہ قلت لیس ذلک بالادعاءِ و التّشبّث باستعمالھم الوھم القاصر والقول الزاعم بل بالنقل عن جھابذة ھذہ الصنعة و علماء اھل الحدیث الذین جمعوا صحاح الاحادیث فی امور رسول اللہ صلعم واقوالہ و افعالہ و حرکاتہ و سکناتہ واقوال الصحابة و المہاجرین و الانصار الذین اتّبعوھم باحسان مثل امام البخاری و مسلم { FN 5339 }؂ میرے بعد تم سے احادیث کثرت سے بیان کی جائیں گی۔پس جب میرے متعلق تم سے کوئی حدیث بیان کی جائے تو اسے اللہ کی کتاب پر پرکھ لینا۔{ FN 5340 }؂ اور امام بخاریؒ کا اسے اپنی صحیح میں لانا (سند کے) منقطع ہونے یا اس کے کسی راوی کے روایت میں غیرمعروف ہونے کی نفی نہیں کرتا۔