فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 158 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 158

ساتوا ں۔اخرج الحلبی فی شرح المنیة عن عمر: إِذَا أَدْرَكْتَ الْإِمَامَ رَاكِعًا فَرَكَعْتَ قَبْلَ أَنْ يَّرْفَعَ رَأْسَهٗ فَقَدْ أَدْرَكْتَ الرَّكْعَةَ وَإِنْ رَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ فَقَدْ فَاتَتْكَ الرَّكْعَةُ۔{ FR 4784 }؂ ۱۔جواب۔پہلے اثر کی نسبت امام بخاری نے کہا۔يَحْيَى بْنُ حُمَيْدٍ فَمَجْهُولٌ لَايُعْتَمَدُ عَلٰى حَدِيثِهٖ غَيْرُ مَعْرُوفٍ بِصِحَّةٍ خَبَرُهٗ مَرْفُوعٌ وَلَيْسَ هٰذَا مِمَّا يَحْتَجُّ بِهٖ أَهْلُ الْعِلْمِ۔{ FR 5320 }؂ پھر بخاری نے کہا ہے۔مالک کے تابع ہوئے (مالک نے قبل ان یقیم صلبہ کا لفظ زیادہ نہیں کیا) عبید اللہ اور یحی بن سعید اور ابن الحاد‘ یونس ‘معمر ‘ابن عیینہ شعیب بن جریج عراک (الی ان قال) وَهُوَ خَبَرٌ مُسْتَفِيْضٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحِجَازِ وَغَيْرِهَا۔{ FR 5321 }؂ اور اگر زیادتی مان بھی لیں تو کہتے ہیں قبل ان یقیم الامام صلبہ ایسا ہے جیسا۔الحج عرفة۔اور الحج عرفہ کے معنے ہیں کہ جس نے عرفہ سے پہلے اور پیچھے کے ارکان پائے اور عرفہ نہیں پایا ا س کا حج نہیں۔ایسے ہی یہاں جس نے تکبیر وغیرہ اور سجدہ بدوں رکوع پایا۔اس کی رکعت نہیں ہوئی۔علاوہ بریں من { FN 4784 }؂ حلبی نے شَرْحُ الْمُنْیَہ میں حضرت عمرؓ سے روایت کی ہے کہ جب تم امام کو رکوع کی حالت میں پاؤ، پھر تم اس کے سر اُٹھانے سے پہلے رکوع کرلو تو تم نے رکعت کو پالیا اور اگر اُس نے تمہارے رکوع کرنے سے پہلے (سر) اُٹھا لیا تو تمہاری رکعت چھوٹ گئی۔{ FN 5320 }؂ یحيٰ بن حمید تو مجہول ہے، اس کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔صحت کے لحاظ سے غیر معروف (راوی) ہے، اس کی خبر مرفوع ہوتی ہے لیکن ایسی نہیں کہ جسے اہل علم حجت سمجھیں۔{ FN 5321 }؂ (یہاں تک کہ انہوں نے کہا:) اور یہ خبر حجاز وغیرہ کے اہل علم کے نزدیک پھیلی ہوئی ہے۔{ FN 5322 }؂ جس نے رکوع کو پایا یعنی وضو کرنے ، تکبیر کہنے، قیام کرنے اور سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد رکوع کو پایا۔