فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 142
السلف ذکرہ الحافظ لحدیث لاتشبہوا۔{ FR 5257 } اور پانچ ر۴کعت ایک تشہد سے کما ذکرت عائشة عن فعله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوتِرُ مِنْ ذٰلِكَ بِخَمْسٍ‘ لَا يَجْلِسُ فِيْ شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِيْ آخِرِهِنَّ۔{ FR 4719 } متفق علیہ اور سات رکعت کل دو تشہد کے ساتھعَنْ عَائِشَةَ: أَوْتَرَ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ، لَمْ يَجْلِسْ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ وَالسَّابِعَةِ، وَلَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي السَّابِعَةِ، کما عند احمد والنسائي و أبي داؤد۔{ FR 4724 } اور سات رکعت صرف ایک ہی تشہد سے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ۔{ FR 4723 } نسائی۔اور نو رکعت عَنْ سَعْدٍ قَالَ لِعَائِشَةَ: أَنْبِئِيْنِيْ عَنْ وِتْرِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، (إِلٰى أَنْ) قَالَتْ: وَيُصَلِّيْ تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيْهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوْهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُوْمُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوْهُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيْمًا۔رواہ احمد والنسائی ومسلم و ابوداؤد۔{ FR 4770 } پس وتر ایک { FN 5257 } جیسا کہ یہ گذشتہ بزرگوں کی ایک جماعت کا مذہب رہا ہے، حافظ نے اسے حدیث لَا تَشَبَّهُوْا کے تعلق میں ذکر کیا ہے۔{ FN 4719 } جیسا کہ حضرت عائشہؓ نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا ذکر کیا ہے کہ آپؐ ان (تہجد کی رکعات) میں سے پانچ رکعت سے وتر کرتے، سوائے ان میں سے آخری کے آپؐ ان میں بالکل بھی نہ بیٹھتے۔{ FN 4724 } حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آنحضورصلی اللہ علیہ و سلم نے سات رکعت وتر ادا کیے۔آپؐ صرف چھٹی اور ساتویں رکعت میں ہی بیٹھے اور سلام صرف ساتویں رکعت میں ہی پھیرا۔جیسا کہ یہ احمد، نسائی اور ابوداؤد کے نزدیک ہے۔{ FN 4723 } حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمررسیدہ ہوگئے اور آپ کا جسم فربہ ہوگیا تو آپؐ سات رکعتیں پڑھتے اور اُن میں سے صرف آخری میں ہی بیٹھتے۔(سنن النسائي، کتاب قیام اللیل، باب کیف الوتر بسبع) { FN 4770 } سعد (بن ہشام) سے روایت ہے۔انہوں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے متعلق بتائیں۔(یہاں تک کہ) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا … آپؐ نوَ رکعات پڑھتے تھے اُن میں بیٹھتے نہ تھے سوائے آٹھویں رکعت کے۔پھر آپؐ اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی حمد بیان کرتے اور اُس سے دعا کرتے تھے۔پھر اُٹھ کھڑے ہوتے اور سلام نہ پھیرتے۔پھر قیام کرتے اور نویں رکعت پڑھتے۔پھر بیٹھ جاتے اور (اللہ کا) ذکر کرتے اور اس کی حمد بیان کرتے اور اس سے دعا کرتے۔پھر سلام پھیر لیتے تھے۔احمد، نسائی، مسلم اور ابوداؤد نے یہ روایت بیان کی ہے۔