فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 127 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 127

مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ۔{ FR 4707 } ؂ ان احادیث میں صاف حکم ہے کہ رکوع کو قراءت کے بعد کرو۔تیسری دلیل امام بخاری نے مختلف طُرق سے ابوقتادہ اور انس اور ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا۔إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا۔{ FR 5201 }؂ اس حدیث کے لحاظ سے جس شخص سے قراءت یا قیام فوت ہو گیا تو حسب الحکم شارع علیہ السلام اس کو پورا کرنا ضرور ہو ا اس کے شواہد یہ ہیں۔جیسے ابن ماجہ نے ابوسعید سے روایت کیا۔امرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نقرأ بفاتحة الکتاب فی کل رکعة { FR 5202 }؂ اگرچہ اس کے راوی طریف بن شہاب اور محمد بن فضیل میں کلام ہے اِلَّا شاہد لانے میں حرج نہیں۔چوتھی دلیل۔امام بخاری نے جزأ القراء ة میں فرمایا ہے حَدَّثَنَا أَيُّوبُ (إلٰى أَنْ قَالَ) عَنْ أَبِيْ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ إِلَّا أَنْ يَقْضِيَ مَا فَاتَهٗ۔{ FR 4708 }؂ یہ حدیث میں نے اس لئے بیان کی ہے کہ میرے بعض مخالف ابوہریرہ کی حدیث میں رکعت کے معنے رکوع لیا کرتے ہیں اور فرماتے ہیں رکعت کے معنے رکوع حقیقت لغوی ہے۔اب اِلَّا اَنْ یَّقْضِیَ کے لفظ سے اپنی تسلی کریں اور اگر بدوں قراءت رکو ع میں شامل ہوئے تو حسبِ فرمان نبوی قراءت فوت شدہ کے قضا کر لیں۔قال اللہ تعالٰی اِنْ تُطِیْعُوْہُ { FN 4707 } ؂ اور امام بخاریؒ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت بیان کی کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو پھر قرآن میں سے جو تمہیں میسر ہو پڑھو۔پھر رکوع کرو۔(بخاري,كتاب الآذان, بَابُ وُجُوبِ القِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا) { FN 5201 }؂ جب تم نماز کے لیے آؤ تو جو تم پا لو ، پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اُسے (بعد میں) پورا کرو۔(القراءۃ خلف الإمام للبخاری، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ) { FN 5202 }؂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا۔{ FN 4708 }؂ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔(یہاں تک کہ انہوں نے کہا) ابو سلمہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے (نماز) پالی، مگر یہ کہ جو اُس سے رہ گیا، اُسے پورا کرلے۔(القراءۃ خلف الإمام للبخاری، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ)