فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 90 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 90

لَاصَلوٰ ةَ کی نسبت کہہ چکے ہیں یہ حدیث مشہور نہیں۔اور عدم شہرت کی وجہ میں فرمایا اَلْمَشْھُوْرُ مَا تَلَقَّاہُ التَّابِعُوْنُ۔{ FR 5079 }؂ اور تابعین نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے پس حدیث مشہور نہ ہوئی۔اَلتَّابِعُوْنَ سے کل تابعین بِوَجْہٍ وَجِیْہٍ مراد لئے۔پھر یہاں آ کر اسی مسئلہ میں تقلید کی آفت نے وہ ساری بات ہی بھلا دی اور احادیث تَرْکُ الْقِرَاءَ ةِ خَلْفَ الْاِمَامِ کو مشہور کہہ دیا اور یہ نہ سوجھا تَرْکُ الْقِرْأَ ةِ میں بھی تابعین کا اختلاف ہے۔پس ان احادیث کو میں کس مونہہ سے مشہور کہتا ہوں اگر یہ عذر تراشا جاوے کہ صاحب ہدایہ نے ترکِ قراءت پر صحابہ کا اجماع بیان فرمایا ہے شاید عینی کو اس اجماع کے حرف نے تابعین کے عدم اختلاف کی راہ بتائی توصحیح نہیں کیونکہ بدر عینی نے خود ہی اجماع کو اجماع جمہوری کہا ہے۔اجماع کا مقید کرنا مثبت اختلاف ہے اور اگر ترمذی کے اس قول کو کہ قراءت خلف الامام اکثر صحابہ کا مذہب ہے اور بخاری کے اس قول کو کہ قراءت خلف الامام اتنے تابعین کا مذہب ہے کہ میں ان کو شمار نہیں کر سکتا۔جیسے گزرا۔دیکھیں تو انکاراختلاف اطفال کا مضحکہ ہے۔اور اختلافِ تابعین بقول عینی مبطل شہرت ہے۔قال یَـجُوْزُ اَنْ یَّکُوْنَ رَجُوْعُ الْمُخَالِفِ ثَابِتًا۔{ FR 5081 }؂ فقیر عرض کرتا ہے۔سِرًّا قراءت فاتحة الکتاب خلف الامام کا صحابہ میں کوئی مخالف نہیں اور آہستہ قراءت فاتحہ خلف الامام پڑھنے والوں کے دانت توڑنے والا اور منہ میں نتن ڈالنے والا (معاذ اللہ منہ) صحابہ کرام میں کوئی نہیں۔یہ تمہارے گھر کی بے گھڑت باتیں ہیں۔بفرض محال اگر مان لیں کہ قراءت خلف الامام پر کچھ صحابہ نے انکار کیا ہے تو بطور آپ کے کیا ہم { FN 5079 }؂ مشہور (روایت) وہ ہے جسے تابعین نے اختیار کیا ہو۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاۃ، باب فی صفة الصلاة، سنن الصلاة، الواجب من القراءة في الصلاة) { FN 5081 } ؂ (علاّمہ عینی ؒ نے کہا:) ممکن ہے کہ (اس معاملہ میں) مخالف کا رجوع ثابت ہوجائے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام)