فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 89 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 89

وَالْفرق بَين الْإِسْرَار والجهر لَا يَصِحُّ۔{ FR 4672 }؂ فقیر۔مسلم { FR 4120 }؂ کی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اور ابوداؤد‘ ترمذی ‘نسائی ‘دارقطنی کی عباد ة والی حدیث جس کے حق میں دارقطنی کہہ چکا کُلُّھُمْ ثِقَاتٌ۔{ FR 5077 }؂ وغیرہ جن کا ذکر اوپر ہو چکا۔آپ دیکھیے آپ کو لَیْسَ فِیْ شَیْ ءٍ کی راستی یا تقلید جیسے تا بینا کرنے والی چیز کی برائی معلوم ہو جاوے اور یہ بھی معلوم ہو کہ جہر و اسرار میں فرق یہی ہے۔اَعَاذَنَا اللہُ مِنْ ہٰذِ ہِ الْـحَمِیَّةِ۔(قَالَ) تَرْجَـحُ مَا قُلْنَا، لِأَنَّهٗ مُوَافِقٌ لِقَوْلِ الْعَامَّةِ وَظَاهِرِ الْكِتَابِ وَالْأَحَادِيْثِ الْمَشْهُوْرَةِ۔{ FR 5078 }؂ فقیر عامہ سے صحابہ مراد ہیں یا تابعین یا عام حنفی لوگ اگر صحابہ اور تابعین مراد ہیں تو غلط ہے۔کَمَا ذَکَرْنَا مِرَارًا۔{ FR 5080 }؂ اور اگر تیسری شق مراد ہے تو وہ ہم کو مضر نہیں۔ظاہر کتاب کا حال یہ ہے کہ آپ نے فَاقْرَؤ وْاوالی قراءت کو حکمی قراءت مانا۔کیا یہی ظہورِ کتاب ہے اور لفظ احادیث مشہورہ کی نسبت گزارش ہے۔آپ برُا نہ مانیں یہی عینی ہیں۔بَابُ صِفَة ِالصَّلوٰ ةِ میں حدیث { FN 4672 } ؂ (علاّمہ عینی ؒ نے کہا:) میں کہتا ہوں احادیث میں ایسا کچھ بھی بیان نہیں کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا تعلق جہری نمازوں سے ہے اور (اس معاملہ میں) خفی اور جہری کا فرق کرنا درست نہیں ہے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام) { FN 4120 }؂ یہ وہی مسلم ہے جس کو آپ جبل من جبال ائمة الحدیث کہہ چکے ہیں۔{ FN 5077 }؂ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔(سنن الدار قطنی، کتاب الصلاۃ، بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلْفَ الْإِمَامِ) { FN 5078 }؂ (علامہ عینی ؒ نے کہا:) ہماری بات کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ یہ عامۃُ الناّس کے قول کے مطابق ہے اور کتاب اللہ اور احادیث ِمشہورہ کا واضح بیان ہے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنىٰ ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام) { FN 5080 }؂ جیسا کہ ہم نے متعدد بار ذکر کیا ہے۔