فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 88 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 88

خلاف اجماع میں دیکھ کر دَرپئے تاویل ہوئے اور یہ نہ سوچا۔مسئلہ کو ہدایہ و الہ اجماع سے ثابت کر رہا تھا۔اوّل تو اجماع اجماع الکل نہیں جو حجت ہے۔پھر اجماع جمہور لیا جو حجت نہیں۔آخر میں ایسے گرے کہ اس جمہوری اجماع کااثبات خبرِواحد سے کرنے لگے۔انصاف بالائے طاق رکھ دیا حضرت جب اس اجماع کا مدار خبرِاحاد پر ہو گیا۔تو اب بھی یہ اجماع وہی اجماع رہا جو حجت ہے اور رفع نزاع کو کافی ہو گیا۔اگر کہو یہ معاضد بالنصوص ہے تو یاد رہے اس کا خلاف بھی معاضدبالنصوص۔قَالَ الْعَیْنِیُّ ثَبَتَ نَـہْیُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرَةِ { FR 5076 }؂ فقیر عرض رساں ہے۔کہاں اور کب اور کس کے پاس۔ا س نہی کو بیان کیجیے اور اس کا نشان دیجیے اور اس کو اپنے مطلب پر صحیح صریح مَقْطُوْعُ الدَّلَالَة کر دکھائیے۔(قَالَ) فَإِنْ قُلْتَ: قِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ مُعَارِضٌ بِقَوْلِهٖ تَعَالٰى فَاقْرَءُوْا (المزّمل:۲۱) فَلَا يَجُوْزُ تَرْكُهٗ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ، قُلْتُ جَعَلَ الْمُقْتَدِي قَارِئًا (حُکْمًا)۔{ FR 4671 }؂ فقیر سبحان اللہ یہاں قراءت حکمی مان لی اگر آیت شریفہ میںقراءت حکمی ہے تو حقیقةً قراءت مراد نہ ہو گی اور یہ بات آپ کے نزدیک کیا دنیا کے مسلمانوں میں مسلّم نہیں۔شاید حقیقت مجاز کی جمع یہاں ضرورتاً آپ نے جائز کر لی۔گھر کے اصولوں کا یہی حال ہے۔جب چاہا انکار کر دیا جب چاہا مان لیا۔(قَالَ) قُلْتُ : لَيْسَ فِيْ شَيْء مِّنَ الْأَحَادِيْثِ بَيَانُ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِــيْمَا جَهَرَ، { FN 5076 }؂ (علاّمہ عینی ؒ نے کہا:) عشرہ مبشرہ کی (اس امر میں) مناہی ثابت ہے۔{ FN 4671 } ؂ (علامہ عینی ؒ نے کہا:) اگر تم کہو کہ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ (یعنی امام کی قراءت مقتدی کی قراءت ہے) اللہ تعالیٰ کے قول فَاقْرَءُوْا (یعنی پس تم پڑھو) کے خلاف ہے اور خبرواحد سے اس کو ترک کرنا جائز نہیں۔تو مَیں کہتا ہوں کہ (اللہ تعالیٰ نے) مقتدی کو حُکْمًا قاری بنا دیا ہے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام)