فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 76

سُئِلَ هَلْ يَقْرَأُ أَحَدٌ مَعَ الإِمَامِ؟ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ مَعَ الإِمَامِ فَحَسْبُهٗ قِرَاءَةُ الإِمَامِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ۔{ FR 4606 }؂ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَّ سَالِمًا قَالَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَنْصِتُ لِلْإِمَامِ فِيْمَا جَهَرَ فِيْهِ وَلَا يَقْرَأُ مَعَهُ۔{ FR 5581 }؂(مؤطا کی تقیید اسی سے ہے) مؤطا محمد میں ابن عمر سے ہے مَنْ صَلّٰی خَلْفَ الْاِمَامِ کَفَتْہُ قِرَا ئَتُہٗ { FR 5549 }؂اور ابن۶ مسعود سے تَکْفِیْکَ قِرَا ءَ ةُ الْاِمَامِ{ FR 5550 }؂ اور مؤطا میں ہے۔امام محمد سے إِنْ تَرَكْتَ فَقَدْ تَرَكَهٗ نَاسٌ يُقْتَدٰى بِـهِمْ وَإِنْ قَرَأْتَ فَقَدْ قَرَأَهُ نَاسٌ يُقْتَدٰى بِـهِمْ۔{ FR 5043 }؂ (اور زید۷بن ثابت سے ہے۔بخاری نے کہا ہے۔عمروبن موسیٰ بن سعد نے زید بن ثابت سے روایت کیا مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ لَهٗ { FR 5555 }؂ اور مسلم میں ہے۔عطابن یسار سے اُس نے زید سے پوچھا امام کے ساتھ قرا ء ت کا کیا حکم ہے۔کہا لَا قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِيْ شَيْءٍ۔{ FR 5556 }؂ اور عبد اللہ۸ بن عباس سے ابوحمزہ روایت کرتا ہے جیسے طحاوی نے بیان کیا۔قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَقْرَأُ وَالْإِمَامُ بَيْنَ يَدَيَّ؟ فَقَالَ لَا۔{ FR 5557 }؂ اور طحاوی نے کثیر بن مُرَّہ سے اس نے ابود۹رداء سے روایت { FN 4606 }؂ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے جب پوچھا جاتا کہ کیا کوئی امام کے ساتھ قراءت کرے؟ تو وہ کہتے: جب تم میں سے کوئی امام کے ساتھ نماز پڑھے تو امام کی قراءت اُس کے لیے کافی ہے۔اور حضرت ابن عمرؓ (امام کے ساتھ) قراءت نہیں کرتے تھے۔(موطأ إمام مالك، ابواب الصلاة، باب افتتاح الصلاة) { FN 5581 }؂ اور عبد الرزاق نے کہا کہ سالم نے بتایا: حضرت ابن عمرؓ امام کی خاطر اُن (نمازوں) میں جن میں وہ قراءت بالجہر کرتا، خاموش رہتے تھے اور آپؓ اُس کے ساتھ قراءت نہیں کرتے تھے۔{ FN 5549 }؂ جس نے امام کے پیچھے پڑھی اس کی (امام کی) قراءت اس کے لئے کافی ہو گی۔{ FN 5550 }؂ امام کی قراءت تیرے لئے کافی ہے۔{ FN 5043 }؂ اگر تم نے (قراءت خلف الامام) چھوڑی تو ایسے لوگوں نے بھی اسے چھوڑا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے۔اور اگر تو نے قراءت (خلف الامام) کی تو ایسے لوگوں نے بھی یہ قراءت کی ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے۔(موطأ امام مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني، ابواب الصلاة، باب افتتاح الصلاة) { FN 5555 }؂ جس نے امام کے پیچھے قراءت کی تو اس کی نماز (ادا) نہیں ہوتی۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ- صفحہ ۱۴) { FN 5556 }؂ امام کے ساتھ کچھ بھی قراءت کرنا درست نہیں۔(مسلم، کتاب المساجد، باب سجود التلاوة) { FN 5557 }؂ میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا: کیا میں قراءت کروں جبکہ امام میرے آگے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔(شرح معاني الآثار، کتاب الصلاة، باب القراءة خلف الإمام)