فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 48
پانچواں جواب۔آیت عام ہے اور عام کی تخصیص سنت ثابتہ سے صحابہ کرام نے جائز رکھی ہے۔چھٹا جواب۔اگر عام ہے تو عام کی تخصیص خبرِواحد سے صحابہ میں معمول تھی۔ساتواں جواب۔جمہور اَئمہ اسلام نے عام کی تخصیص کو جائز رکھا ہے۔آٹھواں جواب۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک عام کی تخصیص خبرِواحد سے جائز ہے اور ان سب باتوں کے دلائل فَاقْرَءُوْا وْا مَا تَيَسَّرَ والی آیت کے نیچے ہم بیان کر چکے ہیں۔نواں جواب۔آیت اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا حنفیوں کے نزدیک عام مخصوص البعض ہے۔اپنے عموم پر نہیں جب عام مخصوص البعض ہوئی تو اس کی تخصیص خبرِواحد سے بالاتفاق ممنوع نہیں۔مخصوص البعض اس لئے ہے کہ آیت شریف کا ترجمہ ہے جب پڑھا جاوے قرآن تو اسے سنو اور چپ رہو۔اس امرالٰہی سے قرآن پڑھتے وقت سامعین کا چپ رہنا ضرور ہوا اور سامعین پر فرض ہوا کہ قرآن پڑھتے وقت کچھ بھی نہ بولیں۔اگر ذرا بھی بولیں گے تو امر کے خلاف کریں گے جیسے خطبہ میں سکوت کا حکم ہے اور رسول اللہ صلعم نے فرمایا اگر کوئی خطبہ کا سامع اپنے پاس والے کو اتنا بھی کہے کہ چپ رہ تو اس نے لغو کیا۔اب فرمایئے اگر کسی جگہ جماعت ہو رہی ہو اور امام جہراً قراءت بھیپڑھ رہا ہو ایک شخص امام کی جہر قراء ت کے وقت شریک جماعت ہونا چاہیے تو آپ کیا کوئی بھی سنے اس شخص کو شمول جماعت سے منع کرتا ہے۔مولوی صاحب میں یقین کرتا ہوں کہ کوئی حنفی بھی جماعت کے ساتھ شامل نہ ہونے کا فتویٰ نہ دے گا اور جب یہ شخص شامل جماعت ہوا تو لامحالہ اللہ اکبر کہہ کر شامل جماعت ہوا ہو گا اس اللہ اکبر کہنے کی اجازت شارع سے اور آپ لوگوں سے اس کو حاصل ہے اور آپ کی کتابوں میں اللہ اکبر کہنے کی ممانعت اس کو نہیں ہے پھر غور کرنے کا مقام ہے اَنْصِتُوْا کے عموم پر کہاں عمل ہوا۔اگر عمل ہوتا تو کیا اللہ اکبر قراءتِ قرآن سنتے وقت کہہ سکتا تھا اللہ اکبر کا کہنا عام اَنْصِتُوْا یعنی چپ رہنے کے خلاف ہے۔بلکہ آپ کے نزدیک تو اللہ اعظم اور خدائے بزرگ است وغیرہ الفاظ