فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 37
اصول کے واقف کو یقین ہے کہ استمرار اور دوام اس اختیار کا آیت شریفہ سے نکالنا یقینی نہیں ظنی ہے اور ہم حدیث سے استمراری اختیار کو دور کرتے ہیں اور اگر ایک دفعہ کا اختیار آپ لیں تو گذارش ہے کہ وہ مابہ النزاع سے خارج ہے۔مولوی صاحب اس جواب پر ذرا غور کیجیے۔اور گہری نگاہ سے اسے پڑھیے اور دیکھیے کہ ہم نے فرضیت فاتحہ کے قول میں ظنیّ سے قطعی کو منسوخ نہیں کیا۔بلکہ اپنی تحقیق کے موافق عام کی تخصیص کی ہے اور آپ کے نزدیک ظنیّ سے ظنیّ کو منسوخ کیا ہے۔بیت اندکے باتو بگفتیم و بدل ترسیدیم کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است یہاں تک تو مولوی صاحب کے اس استدلال کا جواب ہوا جو مولانا صاحب نے عدم خصوصیت فاتحہ الکتاب پر کتاب کے عموم سے استدلال فرمایا تھا۔اب اس حدیث کا جواب ہے جو مولوی صاحب نے ابطال اختصاص فاتحة الکتاب میں بخاری سے بیان فرمائی۔مولوی صاحب فرماتے ہیں۔ومارواہ البخاری فی قصّة تعلیم النبیّ صلعم احکام الصلوٰة للاعرابیّ حیث قال ثُمَّ اِقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔{ FR 4581 } پہلا جواب۔اسی حدیث کو بخاری ہی نے جزء القراءت میں یوں روایت کیا ہے۔حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُوَيْدٍ عَنْ عَيَّاشٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيٰى عَنْ أَبِي السَّائِبِ رَجُلٌ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ قَالَ ارْجِــــعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ثَلَاثًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهٗ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَصَلِّ ثَلَاثًا فَقَالَ فَحَلَفَ لَهٗ كَيْفَ اجْتَهَدْ تَ فَقَالَ لَهٗ اِبْدَأْ فَكَبِّرْ وَتَحْمَدُ اللهَ { FN 4581 } اور امام بخاریؒ نے جو نبی ﷺ کا ایک اعرابی کو نماز کے احکام سکھانے کا واقعہ بیان کیا ہے۔جہاں آپؐ نے فرمایا: پھر قرآن میں سے جو تمہیں میسر ہو پڑھو۔