فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 186
کے کہ اس نے خلاف امر مشروع لکھا ہو گا۔نبی معصوم کے ثابت فعل کو منسوخ کہہ دینا انصاف ہے اور کیا صحابی کا عدم فعل فعل شرعی کا ناسخ ہو سکتا ہے۔ہفتم۔صحابہ پر بڑا سوء ظن ہے کہ انہوں نے منسوخ حدیث رَفعِ یدَین کو بیان کیا اور ناسخ کی روایت نہ کی۔ہشتم۔جائز ہے کہ ابن عمر نے رفع یدین کو عزیمت خیال فرمایا اور عدم رفع کو رخصت اور رخصت پرعمل کیا۔نہم۔قیاس نص کا ناسخ نہیں ہو سکتا۔دہم۔یہاں اصل یعنی سجدہ کی رفع یدین کو منسوخ کہنا صحیح نہیں فروع یعنی نسخ رفع عند الرکوع والرفع عنہ والرفع عند الثالثة { FR 5516 } کیونکر ثابت ہو سکتا ہے۔فائدہ ابن زبیر سے یہ رفع ثابت ہے اور نسخ کی روایت ان سے بالکل ثابت نہیں ایسا ہی ابن مسعود سے نصاًّ نسخ ثابت نہیں۔دوسری بات کی غلطی سجدتین کی رفع نسائی میں مالک بن حویرث سے ابوداؤد میں عبد اللہ بن زبیر سے جس کی تصدیق ابن عباس نے کی ابن ماجہ میں ابوہریرہ سے موجود ہے۔ان روایات پر جو کچھ کلام ہے اس کا محل اور ہے اور سجدتین کی رفع۔انس۔ابن عمر۔ابن عباس۔حسن بصری ‘عطا‘ طاوس ‘امام مالک ‘شافعی کا مذہب ہے۔اگر اجماعاً یہ رفع منسوخ ہوتی تو یہ خلاف کیوں ہوتا۔دویم۔اثبات کی روایات کو ایسی جگہ نفی کی روایات پر خواہ مخواہ ترجیح حاصل ہے۔سیوم۔ثقہ کی زیادتی مقبول ہونے میںجمہور کا اتفاق ہے اور سجدتین کی رفع ثقات کی زیادتی ہے۔چہارم۔جن لوگوں نے نفی کی روایت کی ہے ان کی روایت اس لئے مضر نہیں کہ یہ رفع یدین سجدتین کے وقت رسول اللہ نے کبھی ترک کی اور راوی نے رفع یدین کرتے نہ دیکھا۔اس لئے عدمِ { FN 5516 } رکوع کے وقت اور اس سے اُٹھتے وقت اور تیسری رکعت کے لیے اُٹھتے وقت رفع یدین کا منسوخ ہونا۔