فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 175
وارث کے لئے وصیت نہیں رہی۔ہاں وارثوں کے سواء اور لوگوں کے حق میں وصیت ہو تو ممنوع نہیں۔آگے کی آیت میں حکم ہے جس نے بدلا وصیت کو سننے کے بعد ضرور اُس کا گناہ بدلنے والوں پر ہوا۔اور اللہ ہے سننے والا جاننے والا (کیوں نہ ہو خدائی وصیت کا بدلنا مسلمان کا کام نہیں) اور آیت فَـمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا کا ترجمہ ہے جس کو ڈر ہو کہ کسی موصی نے کجی کی یا گناہ کیا پس اس نے سنوار دیا تو اسے گناہ نہیں۔تحقیق اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ظاہر ہے جس موصی نے خدائی وصیت کے خلاف کیا اس نے بیشک کجی۔۔۔۔۔۔سنوارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اور ہو سکتا ہے کہ موصی سے وہ وصیت والا مراد ہو جس نے ثُلُث سے زیادہ وصیت کی یا ثُلُث میں اور ثُلُث کے اندر کسی برُے کام پر اور برُی طرز پر روپیہ لگا دینے کی وصیت کی اور آیات یُوْصِیْکُمْ میں مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ بدوں تقیید مذکور ہے۔اس لئے یہاں بتادیا کہ کجی اور گناہ کی سنوار معاف ہے اس سنوار نے پر کوئی جرم نہیں اگر اُس نے اس موصی کی وصیت میں اصلاح کی اور اس میں ایما ہے کہ اصلاح کے وقت گناہ بھی ہو جاتے ہیں اِلاَّ اُن کی معافی ہے۔دوسری وجہ۔آیت کے منسوخ نہ ہونے کی اَلْوَالِدَیْنِ اور اَلْاَقْرَبِیْنَ یہاں معرف باللام ہیں پس کہتے ہیں کہ یہاں خاص والدین اور اقارب کا ذکر ہے۔اور چونکہ آیت یُوْصِیْکُمْ اللہُ میں اکثر وارثوں کے حق بیان ہو چکے ہیں اور حدیث لَاوَصِیَّةَ لِوَارِثٍ میں وارث کے حق میں وصیت کرنے کی ممانعت آ چکی ہے۔اس لئے اَلْوَالِدَیْنِ اور اَلْاَقْرَبِیْنَ سے وہ ماں باپ اور رشتہ دار مراد ہیں جو وارث نہیں مثلاً کسی شخص کے ماں باپ غلام ہوں یا مورث کے قاتل ہوں یا کافر ہوں اور ایسے وہ اقارب ہوںجو محروم الارث ہیں۔یا آیت مخصوص البعض ہے۔اگریہ تردّد ہو کہ یہ وصیت اکثر اہل اسلام میں فرض نہیں اور یہاں کُتِبَ کا لفظ فرضیت ظاہر کرتا ہے تو اس کا ازالہ یہ ہے کہ اوّل تو بِالْمَعْرُوْفِ کا لفظ مذب کی دلیل ہے۔دوم ابن عباس ‘ حسن بصری‘ مسروق طائوس مسلم بن یسار‘ علا بن زیاد کے نزدیک اس وصیت کا وجوب ثابت ہے۔