فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 13
الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ وَكَانَ أَبُوْ نُعَيْمٍ أَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ فِيْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَصَلّٰى بِالنَّاسِ أَ بُوْ نُعَيْمٍ وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَ أَ نَا مَعَهٗ حَتّٰى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِيْ نُعَيْمٍ وَ أَ بُوْ نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ قَدْ صَنَعْتَ شَيْئًا فَلَا أَدْرِيْ أَ سُنَّةٌ هِيَ أَمْ سَهْوٌ كَانَتْ مِنْكَ، قَالَ وَمَا ذَاكَ؟ , قَالَ سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ يَجْهَرُ قَالَ أَجَلْ صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِيْ يُجْهَرُ فِيْهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ فَقَالَ هَلْ تَقْرَءُوْنَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا إِنَّا لَنَصْنَعُ ذَالِكَ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا وَأَ نَا أَقُوْلُ مَا لِيْ أُ نَا زَعُ الْقُرْآنَ فَلَا تَقْرَءُوْا بِشَيْءٍ مِّنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ۔رواہ الدار قطنی وقال رواتہ کلھم ثِقات۔{ FR 4494 } (۵) عَنْ عُبَادَةَ۔۔۔۔۔قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ { FN 4494 } نافع بن محمود بن ربیع انصاری سے روایت ہے۔نافع نے کہا: حضرت عبادہؓ نے صبح کی نماز سے دیر کردی تو مؤذن ابونعیم نے نماز شروع کروا دی۔اور ابو نعیم پہلے شخص تھے جنہوں نے بیت المقدس میں اذان دی تھی۔ابونعیم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔حضرت عبادہؓ آئے اورمیں بھی ان کے ساتھ تھا تو ہم نے ابونعیم کے پیچھے صف بنالی۔ابونعیم اونچی آواز سے قراءت کر رہے تھے تو حضرت عبادہؓ نے اُمّ القرآن(یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھنی شروع کردی۔جب وہ (نماز سے) فارغ ہوئے تو میں نے حضرت عبادہؓ سے کہا: آپؓ نے کچھ ایسا کیا ہے جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ سنت ہے یا آپ کی طرف سے کوئی بھول ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ نافع نے کہا: میں نے آپ کو اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھتے سنا ہے جبکہ ابونعیم قراءت بالجہر کر رہے تھے۔انہوں نے کہا: ہاں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں ایک ایسی نماز پڑھائی جس میں قراءت بالجہر کی جاتی ہے تو آپ پر قراءت خلط ملط ہوگئی۔جب آپؐ (نماز سے) فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا رُخ ہماری طرف کیا اور فرمایا: جب میں اونچی آواز سے قراءت کرتا ہوں تو کیا تم بھی پڑھتے ہو؟ ہم میں سے کسی نے کہا: ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا: ایسا مت کیا کرو۔میں (دل میں) کہہ رہا تھا کہ ایسی کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جارہا ہے۔پس جب میں قراءت بالجہر کروں تو تم اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے علاوہ قرآن سے کچھ نہ پڑھا کرو۔اسے (امام) دارقطنی نے روایت کیا ہےاور کہا ہے کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔(سنن الدار قطنی، کتاب الصلاۃ، بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلْـفَ الْإِمَامِ)