فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 174 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 174

لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ اَلْاٰیَةُ مَنْسُوْخَةٌ۔قِیْلَ بِاٰیَةِ مَوَارِیْث وَ قِیْلَ بِحَدِیْثٍ لَاوَصِیَّةَ لِوَارِثٍ وَقِیْلَ بِالْاِجْمَاعِ حَکَاہُ ابْنُ الْعَرَبِیْ۔{ FR 4791 }؂ اس پر مؤلف علاّمہ کہتا ہے کہ یہ آیت آیت یُوْصِیْکُمُ اللہ سے منسوخ ہے اور لَاوَصِیَّةَ لِوَارِثٍ کی حدیث اس نسخ کو ظاہر کرتی ہے۔فقیر۔کہتا ہے یہ آیت منسوخ نہیں۔کیونکہ کُتِبَ کے معنے ہیں لکھے گئے تم پر جب آجاوے ایک کو تم سے موت اگر چھوڑے مال الوصیت ماں باپ اور نزدیکیوں کے لئے۔اور ظاہر ہے کہ جب موت حاضر ہو گئی تو آدمی مر گیا۔اِنْ تَرَکَ کا لفظ وجود موت پر قرینہ ہے۔اس آیت شریفہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص مال چھوڑ ے تو اس کے حق میں کوئی وصیت لکھی گئی ہے۔جب ہم نے قرآن کریم میں جستجو کی تو اس میں پایا۔یُوْصِیْکُمُ اللہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ۔آہ۔معلوم ہوا کہ والدین اور رشتہ داروں کے حق میں یہ وصیت لکھی ہوئی ہے۔وَالْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا { FR 5371 }؂ اور اسی وصیت کے اجرا کا کُتِبَ عَلَیْکُمْ والی آیت میں حکم ہے پس یہ آیت کُتِبَ عَلَیْکُمْ اور آیت یُوْصِیْکُمُ اللہُ آپس میں متعارض نہ ہوئیں بلکہ ایک دوسرے کی ممد ٹھہریں اور لَاوَصِیَّةَ لِوَارِثٍ { FR 5373 }؂ والی حدیث بھی معارض نہ رہی کیونکہ بلحاظ حدیث یہ حکم ہے کہ یُوْصِیْکُمُ اللہُ میں وارثوں کے حقوق مقرر ہو چکے ہیں اور شارع نے ان کے حصص بیان کر دیئے ہیں۔اب { FN 4791 } ؂ پس ہم اس کا کلام ہی تبصرہ کےساتھ پیش کرتے ہیں جیسا کہ سورۂ بقرہ میں آیا ہے: کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ …… یعنی جب تم میں سے کسی پر موت (کا وقت) آجائے تو تم پر بشرطیکہ وہ (مرنے والا) بہت سا مال چھوڑے، والدین اور قریبی رشتہ داروں کو وصیت کرنا فرض کیا گیا ہے۔(کہاجاتا ہےکہ) یہ آیت منسوخ ہے۔کہا گیا ہے کہ آیت میراث سے (منسوخ ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حدیث ’’وارث کے لیے وصیت نہیں‘‘ سے (منسوخ ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجماع سے منسوخ ہے۔ابن عربی نے اسے بیان کیا ہے۔{ FN 5371 }؂ اور قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی وضاحت کرتا ہے۔{ FN 5373 }؂ وارث کے لیے وصیت نہیں۔