فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 173
منسوخ موجود نہیں ہے۔یاد رہے کہ میں محض و قوع کا منکر نہیں۔فقرہ سیوم۔جن لوگوں نے منسوخ مانا ہے اُن کے معانی کرنے میں نسخ کے ماننے والوں نے ضرور کچھ تساہل کیا ہے۔مجھے ایک زمانہ میں اس مسئلہ کی جستجو تھی۔اس وقت ایک رسالہ ایسا ملا جس میں پانسو آیت منسوخ کا بیان تھا۔میں اسے سوچتا اور مصنف کی لاپرواہی پر تعجب کرتا تھا۔تھوڑے دنوں بعد سیوطی کی اتِّقَان دیکھی تو ایسی خوشی ہوئی جیسے بادشاہ کو ملک لینے کی یا عالم کو عمدہ کتاب ملنے کی یا قوم کے خیرخواہ کو کامیابی کی ہوتی ہے۔مجھ کو امام سیوطی کی آیات میں بھی تردّد تھا۔اِلاَّ چھوٹا منہ بڑی بات پر خیال کر کے خاموش رہا اس کے چند دنوں بعد فوز الکبیر فی اصول التفسیر راحت بخش دل مضطر ہوئی اس میں مصنف علاّمہ نے صرف پانچ آیتیں منسوخ مانی ہیں۔میں نے ان پانچ مقام کی تحقیق تفاسیر سے کی تو ان پانچ مقامات کا بھی منسوخ ماننا نفس الامر کے مطابق پایا۔فقرہ چہارم۔عزیز من ایمان اور انصاف کا مقتضٰی ہے کہ اگر ہم دو احکام شرعیہ کو متعارض دیکھیں تو بحکم لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا یقین کریں کہ یہ تعارض ہمارے فہم کی غلطی ہے اگر تطبیق دو آیتوں یا حدیثوں کی ہمیں نہیں آئی تو اللہ کے ہزاروں ایسے بندے ہوں گے جو تطبیق دے سکتے ہوں گے۔ہم بڑے نادان ہیں اگر اپنے عجز کو نہیں سمجھتے۔بڑی غلطی پر ہیں اگر اس فیض الٰہی کے منتظر نہ رہیں جس کے ذریعہ تطبیق حاصل ہو۔بڑی نااُمیدی ہے اگرقبض کی حالت میں بسط کا انتظار نہ ہو۔صاف دھوکہ ہے اگر فَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٍ ہمیں بھول جائے۔فقرہ پنجم۔فوزالکبیر میں لکھا ہے۔شیخ جلال الدین سیوطی در کتاب اتقان بعد ازانکہ از بعض علماء آنچہ مذکور شدبہ بسط لایق تقریر نمود و انچہ بر رائے متأخرین منسوخ است بروفق شیخ ابن العربی محرر کردہ قریب بست آیت شمردہ۔فقیر را در اکثر آں بست نظر است فلنورد کلامہ مع التعقب فمن البقرة کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ اِنْ تَرَکَ خَیْرًا الوَصِیَّةُ