فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 160
ُنَّا۔۔۔نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ۔کتبہ محمد فضل الدین۔{ FR 5328 } فقیر۔صغیری اور مَالَا بُدَّ مِنْہُ میں کوئی دلیل مذکور نہیں۔پس ان سے فتویٰ دینا لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِـمَا اَرَاکَ اللہُ { FR 5329 } کا امتثال نہیں۔ابوہریرہ کا اثر موقوف ہے اور وہ حجت مسلّمہ نہیں۔ابوہریرہ کے فتوے اور عمل کے خلاف ہے۔باایں ہمہ رکعت کے حقیقی اور شرعی معنے چھوڑ نے کی کوئی دلیل نہیں۔رکعت کے معنے بدوں قرینہ رکوع لینے کے شرع میں کوئی نظیر نہیں۔دیکھو آپ نے بھی جو حدیث بیان فرمائی اگر یہی الفاظ مان لیں جو آپ نے لکھے تو اس میں بھی رکعت کے معنی رکوع لینے پر فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہٗ { FR 5330 } کا لفظ صریح قرینہ صارفہ موجود ہے۔مولوی صاحب سچ ہے۔علمی کہ نہ ماخوذ زمشکوٰة نبی ست واللہ کہ سیرابئی او تشنہ لبی ست جائکہ بود جلوہ حق حاکم وقت تابع شدن حکم خرد بے ادبی ست قال اللہُ تعالَى: يَاأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُوْلِهٖ۔هٰذَا آخر ما اردنا من الجواب الآن فی عدم اعتداد الرکعة لمدرک الرکوع و تارک ام القرآن۔و الحمد للہ الذی بنعمتہ تتمّ الصالحات۔و اعلم یا ایھا الناظر انما الاعمال بِالنّیّات۔{ FR 5331 } { FN 5328 } اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے جس نے رکوع پالیا اُس نے رکعت پالی، امام مالک نے اسے روایت کیا ہے۔اور لفظ رکعت کا اطلاق رکوع پر واقع ہوا ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ حضرت رفاعہ بن رافعؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپؐ نے رکوع سے اپنا سر اُٹھایا تو کہا: اللہ نے سن لی اس شخص کی جس نے اس کی تعریف کی۔(محمد فضل الدین نے(بھی) ا سے درج کیا ہے)۔{ FN 5329 } تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس کے ذریعہ سے جو اللہ نے تجھے دکھایا ہے فیصلہ کرے۔{ FN 5330 } پھر جب آپؐ نے اپنا سر اُٹھایا۔{ FN 5331 } اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کیا کرو۔یہ اب آخری بات ہے جس کا جواب کے لیے ہم نے ارادہ کیا ہے کہ رکوع کو پانے والے اور امّ القرآن کو چھوڑنے والے کی رکعت کا شمار نہیں ہے۔اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کی نعمت سے نیکیاں تکمیل پاتیں ہیں۔اور اے دیکھنے والے جان لے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہی ہے۔