فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 159 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 159

یہاں اگر قرأة الفاتحہ کی زیادتی کی وجہ دریافت فرمائو تو ہم انشاء اللہ وہ بھی کہہسکتے ہیں پوچھو وہ کیا ہے۔جواب دیں گے وہی جو توضّأَ اور کَبَّــرَ اور قَامَ کی آپ نے نکالی ہے۔باقی آثار کی نسبت اوّل تو عرض ہے کہ محمد اور طحاوی اور حلبی ملتزم الصحّة نہیں ان کی سندیں بیان کرو اور کسی تصحیح کے امام کی تصحیح دکھلائو۔اور امام مالک کی بلاغات کا حال سنیے۔سیوطی نے تدریب میں کہا ہے۔وَمِنْ بَلَاغَاتِهِ أَحَادِيثُ لَا تُعْرَفُ، كَمَا ذَكَرَهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ۔{ FR 5325 }؂ دوم۔طارق کا اثر صرف شرکت کا مظہر ہے نہ اعتداد رکعت کا۔سیوم۔ابوہریرہ کی اثر میں رکعت سے رکوع مراد لینا ممنوع ہے کیونکہ وہ شرعی رکعت نہیں۔چہارم۔بعض ان آثار سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ان صحابہ نے وہی کام کیا جو ابوبکرہ نے کیا پس جیسے رسول اللہ ؐ کا حکم لاتعد ابوبکرہ کو تھا ان کو اس حکم نبوی کا محکوم کیوں نہ سمجھا جاوے۔پنجم۔ان کا فعل بعینہٖ ابوبکرہ کا فعل ہے اور یہ ثابت نہیں کہ ان کو لاتعد کا حکم پہنچا پس ان کے افعال باوجود امکان اختفاء الحکم عنھم { FR 5326 }؂ کیونکر حجت ہوں گے۔مولوی صاحب کا جواب مدرک رکوع کے حق میں۔مدرک رکوع مدرک رکعت ست اذا ادرک الامام فی الرکوع فانہ کان مدرکًا بتلک الرکعة صغیری۔{ FR 5327 }؂ اگر شخص امام رادریا بد ہرجاکہ امام را در یابددرہماں رکن داخل شود۔اگر رکوع یافت رکعت یافت واِلاَّ رکعت نیافت مالابدمنہ۔وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ: مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ، رَوَاهُ مالِكٌ۔واطلاق الرکعة علی الرکوع واقع کما فی حدیث البخاری عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ۔۔۔۔{ FN 5325 }؂ اور (امام مالک کی) بلاغات میں ایسی احادیث بھی ہیں جوغیرمعروف ہیں۔جیسا کہ ابن عبد البر نے (بھی) اس کا ذکر کیا ہے۔(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي، النوع الأول الصحیح، أَوَّلُ مُصَنَّفٍ فِي الصَّحِيحِ الْمُجَرَّدِ صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ ثُمَّ مُسْلِمٍ) { FN 5326 }؂ اُن سے حکم کا مخفی رہنا۔{ FN 5327 }؂ جب وہ امام کو رکوع میں پالے تو وہ صرف اُس چھوٹی سی رکعت (یعنی رکعت کے چھوٹے سے حصہ) کو ہی پانے والا ہے۔