فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 146

استدلال پکڑنے والے کو لاحظ لہ من العلم { FR 5268 }؂ کہا گیا۔سچ ہے اگر لاترفعوا ایدیکم کانہا اذ ناب خیل شمس { FR 5269 }؂سے استدلال صحیح تھا تو حنفی تکبیر اولیٰ اور قنوت اور عیدین وغیرہ میں رفع یدین کرنا درست نہ کہتے۔۶ ۱ جس کے حق میں ابن سیرین کہتا ہے انہ من تمام الصلوٰة۔{ FR 5270 }؂ جس کے ثبوت میں احادیث متواترہ موجود ہیں دیکھو سیوطی کی ازھار متناثرہ فی الاخبار المتواترہ ۷ جس کے معارضہ میں امام صاحب کا مناظرہ اوزاعی سے آج تک معلق ہے کوئی اسے مسند نہیں کر سکا۔۸ اجس کے معارض کی نسبت ابن جوزی نے کہا ما ابلد من حاول معارضة حدیث الرفعات بما روی من الاحادیث فی عدمھا۔{ FR 5271 }؂ اور اس ایک رکعت وتر پڑھنے والے نے قیام کے وقت سینے پر ہاتھ باندھے جیسے صحیح ابن خزیمہ میں ثابت ہوا اور اس کا مخالف اثر مسند احمد اور بیہقی اور ابوداؤد میں بروایت ابن الاعرابی عبد الرحمٰن بن اسحاق واسطی سے مروی ہے اور یہ اثر اوّل تو اس لئے کہ یہ عبد الرحمٰن مُتّفقٌ عَلٰی ضُعْفِہٖ ہے پھر اس لئے کہ جس صحابی سے (فَدَاہُ نَفْسِیْ) یہ اثر مروی ہے اسی سے وضع علی الصدر بھی مروی ہے قابل حجت نہیں اور اس نمازی نے یہ سمجھ کر کہ حنفیہ نے عورتوں اور مردوں میں اس کا تفرقہ بے وجہ شرعیہ کیا ہے جیسے پہلے تشہد میں مردوں اور عورتوں کو جُلُوْس عَلَی الْیُسْرٰیاور نَصْبُ الْیُمْنیٰ کا حکم ہے اور دوسرے میں دونوں کو تُورک اِلاَّ حنفیوں نے عورتوں کو دونوں جگہ تُورک کا حکم دیا اور مردوں کو دونوں جگہ منع کر دیا اور احادیث صحیحہ کے خلاف کی پرواہ نہ کی۔اگر یہ نمازی عورت تھی تو اس نے سجدہ میں بازو اپنی پسلیوں سے علیحدہ رکھے اور سینہ کو ران سے اور ران کو پنڈلیوں سے۔اور اس نمازی نے تمام تشہد میں آخر تک رَفْعِ سَبَا بَہ کی نہ یہ کہ { FN 5268 }؂ اُس کا علم میں کوئی حصہ نہیں۔{ FN 5269 }؂ اپنے ہاتھوں کو (اس طرح) نہ اُٹھاؤ گویا کہ یہ سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہیں۔{ FN 5270 }؂ یہ (بات) نماز کو مکمل کرنے میں سے ہے۔{ FN 5271 }؂ کیا ہی کمزور رائے ہے وہ جس نے رفع یدین کی حدیث پر اعتراض کرنے کی کوشش کی ہے اس وجہ سے کہ احادیث میں اس کے نہ ہونے کو (بھی) روایت کیا گیا ہے۔