فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 121
یذکرا عن سید الکونین و تمسک بحبل اللہ المتین القرآن و حدیث رسولہ الامین او اجعل الشیخین عمر الفاروق و علی المرتضٰی و اقرأ خلف الامام کما کانا یقرآن اتباعًا للرسول المجتبٰی۔ثُمَّ لِاَیِّ اَمْرٍ تختار شیخیک علی الإمامین الـجلیلین البخاری و المسلم و کانا بالاجماع الشیخین۔{ FR 4696 } قال۔لما فیہ من الوعید انتہٰی بتغیّر یسیر۔انتہٰی۔{ FR 5185 } فقیر۔ما فی اتباع القرآن والحدیث من الوعید انما الوعید لمن ترکھما و اتخذھما ظھریًا بل فی اتباعہما وعد الصدق و تغیرک الیسیر موجب للخطأ الکبیر و الخیانة الکثیر عفا اللہ عنک موصل الی السعیر۔ترکت قول الہدایة و یستحسن علی سبیل الاحتیاط وما خفت من الرب القدیر۔{ FR 4697 } قال۔وما یروی عن محمد انه لیستحسن علی سبیل الاحتیاط فردّہ ابن الھمام حیث قال ان الاحتیاط لیس فی قراءة خلف الإمام بل فی عدمه لان الاحتیاط { FN 4696 } ان دو بزرگوں کو چھوڑو جبکہ ان دونوں نے سیدالکونین صلی اللہ علیہ و سلم سے (اسے) بیان نہیں کیا۔اور اللہ کی مضبوط رسی قرآنِ کریم اور اس کے رسول امین کی حدیث سے چمٹ جاؤ۔یا حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت علی مرتضیٰؓ کو شیخین تسلیم کرکے امام کے پیچھے قراءت کرلو، جیسا کہ وہ دونوں رسولِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع میں قراءت کیا کرتے تھے۔پھر تم کس بات پر اپنے ان دو بزرگوں کو اُن جلیل القدر دو اَئمہ بخاری اور مسلم پر اختیار کرتے ہو، جو بالاجماع شیخین ہیں۔{ FN 5185 } کیونکہ اس میں چھوٹی سی تبدیلی کرنے کے متعلق بھی وعید ہے۔{ FN 4697 } قرآن اور حدیث کی اتباع میں کیا وعید؟ وعید تو صرف اُس کے لیے ہے جس نے ان دونوں کو چھوڑا اور پس پشت ڈال دیا۔بلکہ ان دونوں کی اتباع کرنے میں تو ایک سچا وعدہ ہے۔اور تمہاری چھوٹی سی تبدیلی کرلینا بہت بڑی خطا اور بہت بڑی خیانت کی مستلزم ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں بھڑکتی ہوئی جہنم تک پہنچنے سے محفوظ رکھے۔تم نے ہدایت کی بات چھوڑی اور احتیاط کی راہ سے اسے مستحسن قرار دیتے ہو، اور ربِّ قدیر سے نہیں ڈرتے۔