فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 119

عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ القِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّيْ أَرَاكُمْ تَقْرَءُوْنَ وَرَآءَ إِمَامِكُمْ، قُلْنَا إِيْ وَاللهِ، يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا إِلَّا بِأُمِّ القُرْآنِ، فَإِنَّهٗ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِهَا۔{ FR 5583 }؂ اور دارقطنی نے کہا رِجَالُهٗ کُلُّهُمْ ثِقَاتٌ { FR 5584 }؂ اور ایسے کئی ادلّہ جن کا ذکر ہو چکا۔مولوی صاحب جی یہ شَیْئًا یَسِیْرًا جو آپ نے بطور حاشیہ ایزاد کیا قرآن کے صریحؔ فَاقْرَؤُوْا مَاتَیَسَّرَ اور اعرابی کی حدیث میں جو ثُمَّ اقْرَأْ مَاتَیَسَّرَ مَعَکَ { FR 5176 }؂ہے اس کے بھی خلاف ہے اور آپ نے جو فرمایا۔خَلَافًا لِلشَّافِــعِی۔اس پر والقرآن و الحدیث و اکثر اہل العلم من الصحابة و ما لایحصی من التابعین علٰی ماروی البخاری و الترمذی { FR 5179 }؂زیادہ فرما دیجیے۔قَالَ وَلَنَا قَوْلُهٗ عَلَيْهِ السَّلَامُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ۔{ FR 5180 }؂ فقیر۔واللہ لکم القیاسات خلافًا للنصوص۔{ FR 5181 }؂ کیونکہ یہ حدیث جمع حفاظ کے نزدیک ضعیف ہے۔دیکھو فتح البخاری اور تلخیص۔پھر عام مخصوص البعض ہے کَمَا ذُکِرَ غَیْرَمَرَّةٍ۔{ FR 5182 }؂ { FN 5583 }؂ اور حضرت عبادہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپؐ پر تلاوت مشکل ہوگئی۔جب آپؐ فارغ ہوئے توفرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے امام کے پیچھے پیچھے پڑھتے ہو۔ہم نے عرض کیا: جی ہاں، یارسول اللہ! (ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔) آپؐ نے فرمایا: ام القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے سوا ایسا نہ کیا کرو۔کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہے۔{ FN 5584 }؂ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔{ FN 5176 }؂ پھر (قرآن میں سے) جو تمہیں میسر ہو، پڑھو۔{ FN 5179 }؂ اور قرآن، حدیث، اکثر اہل علم صحابہ اور بے شمار تابعین اس بات پر ہیں جو امام بخاریؒ اور ترمذیؒ نے روایت کی ہے۔