فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 118 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 118

مولوی محمد فضل الدین صاحب گجراتی حنفی کا جواب اور اس پر جو کلام ہے اس کی طرف اشارہ قال فاتحہ خلف الامام نزد علماء ِماجائز نیست بلکہ قائل بکراہت شدہ اند۔فقیر۔مولوی صاحب یہ عموم صحیح نہیں آپ کے علماء تو اس مسئلہ میں حیران ہیں۔کوئی مکروہ بتاتا ہے۔کوئی پڑھنے کو احتیاط کہتا ہے اور کوئی مستحسن کہتا ہے۔کوئی منع کرتا ہے۔کوئی مطلق نفی پر اکتفا کرتا ہے۔کوئی مفسد ہے کوئی محرم ہے۔آپ حنفی فقہ ملاحظہ فرمائیے۔جہاں یہ اختلاف ہے۔حضرت عام علماء کا لفظ بولنا انصاف نہیں۔ہاں نزد بعض علماء کا لفظ اگر بولتے ممکن تھا اِلَّا کیوں بولتے اگر بعض کا لفظ بولتے تو ایک منصف آپ کو کہہ سکتا تھا فاتحہ خلف الامام نزد بعض علماء حنفی جائز است بلکہ مستحسن کما ذکر نا عن الامام۔پس اقوال متعارض ہوئے۔قال فی الہدایہ و لایقرأ المؤْتـمّ خلف الامام (ای شَیْئًا یَسِیْرًا مِنَ الْقِرَاءَ ةِ) خَلَافًالِلشَّافِــعِیْ فِی الْفَاتِـحَةِ { FR 5160 }؂۔فقیر۔اگر ہدایہ میں یہ لکھا ہے لَایَقْرَأُ الْمُؤْتَمَّ { FR 5161 }؂ تو قرآن میں کل نمازیوں کو فَاقْرَؤُوْا { FR 5162 }؂ کا ارشاد ہے امام اور منفرد پر حصر نہیں۔مقتدی کی تخصیص باعث نسخ ہو گی اور عموم قرآنی توڑنا جس کو آپ پسند نہیں کرتے۔یہ تو قرآن کا خلاف ثابت ہوا اور حدیث میں آیا ہے كَمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَنَسٍ أَتَقْرَؤُونَ فِيْ صَلَاتِكُمْ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ ؟ إلٰى أَنْ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِيْ نَفْسِهٖ۔{ FR 5582 }؂ وَعَنْ عُبَادَةَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ { FN 5160 }؂ انہوں نے ہدایہ میں کہا:سورہ فاتحہ کے متعلق امام شافعی کے خلاف ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی قراءت میں سے کچھ بھی نہ پڑھے۔{ FN 5161 }؂ مقتدی قراءت نہ کرے۔{ FN 5162 }؂ پس تم پڑھو۔{ FN 5582 }؂ جیسا کہ امام بخاری نے حضرت انسؓ سے یہ روایت کی ہے کہ کیا تم اپنی نماز میں قراءت کرتے ہو، جبکہ امام (بھی) قراءت کر رہا ہوتا ہے؟ اس تک کہ آپؐ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔اور تم میں سے ہر ایک کو سورۂ فاتحہ اپنے دل میں پڑھنی چاہیے۔