فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 117
شخص کو امام بنایا اور چھٹی ہو ئی پایاں نہیں جدال کا انصاف شرط ہے بے اصل بات اشترِگرگیں کا ضرط ہے وَاللہُ یُـحِقُّ الْـحَقَّ وَ یَـھْدِیْ اِلَیْہِ مَن یَّشَآءُ۔ھٰذَا آخر الکلام فی اثبات الفاتحة خلف الامام{ FR 5159 }۔مولوی عبد الحی صاحب کا انصاف و من نظر بنظر الإنصاف وغاص فی بحار الفقه و الأصول متجنّبًا عن الاعتساف یعلم علمًا یَقِیْنِیًّا أن أکثر المسائل الفرعیة و الأصلیة التی اختلف العلماء فیھا فمذهب المحدثین فیھا أقوی من مذاهب غیرهم و إنّی کلّما أسیر فی شُعَب الاختلاف أجد قول المحدّثین فیه قریبًا من الإنصاف فلِلہ درّھم وعلیه شکرھم کیف لا، وهم ورثة النبی صلی اللہ علیه وسلم حقًّا ونواب شرعه صدقًا۔حشرنا اللہ فی زمرتھم وأماتنا علی حبّھم و سیرتھم۔خلاصہ ترجمہ۔جو کوئی انصاف سے دیکھے اور فقہ و اصول کے سمندر میں اعتساف سے بچ کر غوطہ لگاوے یقیناً جان لے گا کہ جن اصولی اور فروعی مسائل میں علماء کا اختلاف ہوا وہاں محدثین ہی کا مذہب بہت قوی پائے گا اور میں جب اختلافوں کو دیکھتا ہوں محدثین ہی کا قول اقرب بانصاف پاتا ہوں۔خدا ان کی قدردانی کرے کیوں نہ ہو وہی رسول اللہ کے وارث ہیں اور وہی شرع کے نواب ہیں۔اللہ ہم کو اٹھاوے ان کے زمرہ میں اور موت دے انہیں کی حُبّ اورطرزمیں۔اقول فی حقّ المنصف و فی حقّی و حقّ احبّائی آمین یاربّ العالمین۔{ FN 5159 } اور اللہ تعالیٰ حق کو سچ کردکھاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ(پڑھنے)کے ثبوت میں یہ آخری بات ہے۔