فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 113
الْبَعْضُ، وَهُوَ الْمُدْركُ فِي الرُّكُوعِ إجْمَاعًا فَجَازَ تَخْصِيصُهُمَا۔انتہٰی۔{ FR 5149 } اور عام مخصوص کی تخصیص بالاتفاق ممنوع نہیں پس لَاصَلوٰةَ کی متواتر حدیث سے تخصیص کیوںممنوع ہو گی۔باایں مَاتَیَسَّرَ محتمل الوجوہ ہے کَمَا مَرَّ اور آیت اِذَا قُرِیَٔ الْقُرْآنُ کی تخصیص اہلِ حدیث کے بیان مطلق اور آپ کے یہاں اس لئے کہ مخصوص ہے کَمَا مَرَّ حَدِیْثٌ لَا تَقْرَءُوْا بِشَيْءٍ مِّنَ الْقُرْآنِ إذَا جَهَرْتُ بِهٖ إلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ۔{ FR 5150 }سے ممنوع نہ ہو گی اور احادیث میں اس لئے تعارض نہیں کہ اعرابی کی حدیث میں فاتحہ کا صریح حکم موجود ہے دیکھو ابن حباّن اور مسند احمد۔اگر تصریح نہ ہوتی محتمل تھی کَمَامَرَّغَیْرَمَرَّةٍ۔{ FR 5151 } یاجیسے ابن ھمام نے کہا ہے أَنَّ وُجُوْبَهُمَا (الفاتحة و السورة) كَانَ ظَاهِرًا۔{ FR 5152 } پس ہم بھی کہتے ہیں۔ان لزوم الفاتحة کان ظاہرًا او المقصود ماتیسر بعد ہا لظہور لزومھا کما قال ابن الہمام { FR 5153 } اور حدیث قراء ة الامام اور اذا قریٔ فانصتوا۔دونوں اوّل تو شاذ ہیں ان کا شذوذ ابن ھمام نے مانا ہے گو شاذ مقبول کہا ہے۔(قَالَ) وَإِذَا قَرَأَ۔۔۔هَذَا هُوَ الشَّاذُّ الْمَقْبُولُ، وَمِثْلُ هَذَا هُوَ الْوَاقِعُ فِي حَدِيثِ «مَنْ كَانَ لَهُ إمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ«انتہٰی۔{ FR 5560 } { FN 5149 } اور مقتدی (اس مندرجہ بالا ارشادِ نبوی سے) نکل جائے گا اور ہمارے طریق کے مطابق بھی اسے مخصوص کیا جائے گا۔کیونکہ یہ دونوں (موقف ہی) عمومی ہیں جو ایک اجماعی امر سے مخصوص کیے گئے ہیں اور وہ رکوع میں (نماز) پا لینے والا ہے۔پس دونوں (مفاہیم) کی تخصیص کرنا جائز ہے۔(فتح القدیر لابن ھمام، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل فی القراءة) { FN 5150 } جب میں قراءت بالجہر کروں تو اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے سوا قرآن کریم میں سے کچھ بھی قراءت نہ کرو۔{ FN 5151 } جیسا کہ متعدد مرتبہ گزر چکا ہے۔{ FN 5152 } کہ ان دونوں (یعنی سورۂ فاتحہ اور کسی اور سورۃ کی قراءت) کا واجب ہونا واضح ہے۔{ FN 5153 } کہ سورۂ فاتحہ(کی قراءت) کا لازم ہونا ظاہر ہے یا جیسا کہ ابن ہمام نے کہا کہ اس کے بعد مَا تَیَسَّرَ (کے حکم) کا مقصد اس کے لازم ہونے کو ظاہر کرنا ہے۔{ FN 5560 } انہوں نے کہا: اور جب (امام) قراءت کرے( تو خاموش رہو۔) یہ (روایت) تو شاذ مقبول ہے اور ایسی ہی بات ایک حدیث یعنی ’’جس کا امام ہو تو امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے‘‘ میں آئی ہے۔(فتح القدیر لابن ھمام، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل فی القراءة)