فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 112 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 112

ہیں اور اعلیٰ کے تخالف میں ادنیٰ کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔اس لئے یہاں رجوع کر کے دیکھا تو مدرک فی الرکوع تارک قراءت فاتحہ کو بالاجماع مدرک رکعت کہتے ہیں۔نہ تارک تکبیر اور قیام کو۔اس اجماع سے صاف معلوم ہوتا ہے۔قراءت فاتحہ یا مطلق قراءت بھی مقتدی کے حق میں فرض نہ تھی حالت ضرور ت میں سقوط مستلزم عدم فرضیت سے مدرک فی الرکوع سے تکبیر اور قیام بخوف فوت ادراک فی الرکوع ساقط نہیں ہوتے۔اگر قراءت بھی فرض ہوتی تو وہ بھی بضرورت خوف ادراک فوت نہ ہوتی۔پہلا جواب۔اَلْـحَمْدُ لِلہِ معترض نے تعارض مانا ہمارے حنفی تو قراءت فاتحہ کی کوئی دلیل بھی نہیں مانتے۔۲جواب۔قرآن اور احادیثِ ثابتہ میں کوئی تعارض اور تخالف نہیں۔قرآن بالبداہت اہلِ اسلام کے نزدیک کلام الٰہی ہے (اس کے حروف بھی اللہ کی طرف سے ہیں کیونکہ کلام الٰہی بھی صوَت اور حروف رکھتا ہے) اور حدیث حسبِ فرمان ( مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى) حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ کا فرمان ہے۔اور باری تعالیٰ فرماتا ہے۔لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا (النسآء:۸۳) یہ تو اجمالاً عدم اختلاف کا ثبوت ہے۔تفصیل اجمال اعتراضات کی جوابوں میں دیکھ لیجئے اور اجمال اور تفصیل کا بین بین بیان یہاں سن لیجئے۔آیت فَاقْرَؤُوْا مَا تَیَسَّرَ میں ما کا کلمہ ضرور عام مخصوص البعض ہے۔ابن ھمام حاشیہ ہدایہ میں لکھتے ہیں۔وَلَنَا قَوْلُهٗ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَنْ كَانَ لَهٗ إمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ، فَإِذَا صَحَّ وَجَبَ أَنْ يُخَصَّ عُمُومُ الْآيَةِ وَالْحَدِيْثِ عَلٰى طَرِيقَةِ الْخَصْمِ مُطْلَقًا { FR 4689 }؂ (خصم اہلِ حدیث اور امام شافعی وغیرہ بلکہ خود ابوحنیفہ و سَلف ہیں)۔فَيَخْرُجُ الْمُقْتَدِيْ وَعَلٰى طَرِيْقَتِنَا (متأخرین حنفیہ یا ہم مان لیں کل حنفیہ بلکہ خود امام ابوحنیفہ ) يُخَصُّ أَيْضًا لِأَنَّهُمَا عَامٌّ خُصَّ مِنْهُ { FN 4689 } ؂ اور ہمارے لیے آنحضور علیہ السلام کا قول (کافی) ہے کہ جس کا امام ہو تو امام کی قراءت ہی اس (مقتدی) کی قراءت ہے۔پھر جب یہ صحیح ہے تو جھگڑے کی صورت میں واجب ہے کہ آیت اور حدیث کے عموم کو مطلقاً مخصوص لیا جائے۔