فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 106
الجانبین فیہ قویة لکن یظھر بعد التأمل فی الدلائل ان القراءة اولی من ترکھا فقد عولنا علی قول محمدٍ کما نقل عنہ صاحب الہدایة۔انتہٰی۔{ FR 4681 } جواب ۸۔اگر قائلین باستحسان قراءت فاتحہ خلف الامام کو ترجیح نہ دیں تو قائلین بکراہت اورقائلین باستحسان کو آپس میں متعارض سمجھ کر ساقط کردیں گے۔میرے حنفی مہربان قلت اور کثرت قائلین کاعذ رپر پیش فرماویں۔کیونکہ شیخ عبد الحق دہلوی نے سفرسعادت کی شرح میں جہاں صاحب سفر نے اثبات رفع یدین میں چار سو جز اور اثر کا ذکر کیا ہے کہا ہے۔و حق آنست کہ باقطع نظر از کثرت و قلت طرق و روایات۔اخبار وآثار در ہر دو جانب موجود ہست انتہٰی۔گو یہاں شیخ جی کی قطع نظر عجیب ہے کیونکہ جہاں قلت کے باعث خبرواحد یا غریب رہے اور بقول متأخرین حنفیہ تخصیص عموم قرآن کے موجب نہ ہوسکے اور کثرت کے باعث مشہور بلکہ متواتر اور قطعی اور مخصص عموم قرآن بن جاوے۔قلّت و کثرت سے قطع نظر کرنا غلو قبیح ہے اِلاَّ آپ لوگوں پر ان کا قول حجت ہے۔اس لئے بیان ہوا۔{ FN 4681 } شرالکافی شرح البزدوی میں ہے کہ امام محمد (بن حسن) کے نزدیک احتیاط کے پیش نظر امام کے پیچھے (سورۂ فاتحہ) پڑھنا حسن ہے۔اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ محمد (بن حسن) کی ایک روایت کے مطابق سورۂ فاتحہ سرّی نمازوں میں پڑھنا پسندیدہ اور مستحب ہے اور جہری نمازوں میں پڑھنا ناپسندیدہ ہے۔جیسا کہ صاحب الہدایہ اور ذخیرہ وغیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔اور اُن کی یہ روایت امام ابوحنیفہ سے ہے جیسا کہ زاہدی نے مجتبیٰ میں اس کا ذکر کیا ہے۔اور یہ وہی ہیں جنہیں ابوحفص اور شیخ التسلیم نے قبول کیا ہے جیسا کہ اس کا ذکر گذر چکا ہے، بلکہ جیسا کہ تفسیر احمدی کے مصنف نے کہا ہے کہ احناف اور صوفیاء میں سے ایک جماعت نے (انہیں قبول کیا ہے۔) اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جب (یہ معاملہ) کماحقہ ظاہر ہوچکا ہے تو سب سے مضبوط مسلک یہی ہے جس پر ہمارے ساتھی چلے ہیں یعنی سرّی نمازوں میں (سورۂ فاتحہ) پڑھنا مستحسن ہے۔جیسا کہ محمد بن حسن کی روایت میں ہے اور اسے زمانہ کے فقہاء کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے۔اور اگرچہ یہ روایت کے لحاظ سے کمزور ہے لیکن درایتاً مضبوط ہے۔اور انہوں نے یہ بھی کہا: ’’تنویر العینین فی رفع الیدین‘‘ کے مصنف کا امام کے پیچھے (سورۂ فاتحہ) پڑھنے کے متعلق کیا ہی اچھا قول ہے کہ اس بارے میں دونوں طرف کے دلائل مضبوط ہیں لیکن ان دلائل پر غور کرنے کے بعد یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ قراءت کرنا اُس کو چھوڑنے سے زیادہ بہتر ہے۔اور ہم محمد (بن حسن) کے قول پر اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ اُن سے صاحب الہدایہ نے نقل کیا ہے۔